جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

 ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کوئی فرد بھوکا نہ سوئے، وزیراعظم عمران خان،بڑا حکم جاری کردیا

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی فرد بھوکا نہ سوئے اور یہ فرض پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ہماری ذمہ داری نہ صرف اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی کو یقینی بنانا ہے بلکہ ان کی قیمتوں پر بھی قابو پانا ہے تاکہ کم آمدنی والے اور غربت کے شکار افراد اور خاندانوں کو ضرورت کی بنیادی اشیا باآسانی میسر آئیں

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی اور غریب افراد کے لئے ان اشیا کی کم قیمت پر فراہمی سے متعلق تجاویز کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے تاکہ ان پر عمل درآمد کیا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز وزیر اعظم عمران  خان کی زیرصدارت عام آدمی کے زیر استعمال آنے والی اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی اور قیمتوں میں کمی  لانے کے حوالے سے اجلاس میں کیا۔اجلاس میں وزیر مواصلات مراد سعید، معاون خصوصی ثانیہ نشتر، وفاقی سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری انڈسٹریز، سیکرٹری مواصلات، چیئرمین یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن ذوالقرنین علی خان، سی ای او این آئی ٹی بی سید شباہت علی شاہ اور دیگر سینئر افسران شریک ہوئے ہیں۔اس موقع پر عام آدمی کے استعمال میں آنے والی اشیائے ضروریہ مثلا آٹا، گھی، چینی، دالیں اور چاول کی وافر فراہمی اور ان اجناس کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی فلاح و بہبود ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس پروگرام کے کم آمدنی والے اور غربت سے متاثرہ افراد کو اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے لیے تجاویز پیش کیں،چیئرمین یوٹیلیٹی سٹور کارپوریشن ذوالقرنین نے وزیر اعظم کو ملک بھر میں پھیلے یوٹیلیٹی سٹورز کے نیٹ ورک اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی اور قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔

چیئرمین یوٹیلیٹی اسٹور کارپوریشن نے بتایا کہ اس وقت یوٹیلیٹی اسٹور کے چار ہزار مرکز موجود ہیں جو اشیا ضروریہ کی فراہمی اور انکی قیمتوں میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں وزیر مواصلات نے تجویز پیش کی کہ یوٹیلیٹی اسٹور کے چار ہزار مراکز کے علاوہ ملک دور دراز علاقوں میں موجود پاکستان پوسٹ کے آفسز کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس موقع پر کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عام عادمی بھی خالی پیٹ رات کو نہ سوئے اور یہ ذمہ داری کو اپنا فرض سمجھ کر دن رات ایک کر کے نبھائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…