منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جنوری سے ایف بی آر کا نام تبدیل کر کے کیا رکھ دیا جائے گا ؟

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)13 سال بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیاہے،یکم جنوری 2020 سے ایف بی آر پاکستان ریونیو اتھارٹی کہلائے گا ۔دوسری جانب چیئرمین ایف بی آر پاکستان ریونیواتھارٹی کے قیام کے معاملے پراپنے ادارے کی سینئربیوروکریسی کوقائل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔تفصیلات کے مطابق 13 سال بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیاہے۔

یکم جنوری 2020 سے ایف بی آر پاکستان ریونیو اتھارٹی کہلائے گا۔ذرائع کے مطابق پاکستان ریونیو اتھارٹی میں ایک چیئر مین اور ڈپٹی چیئرمین ہو گا ، پنجاب ریونیو اتھارٹی سمیت تمام صوبوں کی اتھارٹیز کو پاکستان ریونیو اتھارٹی میں ضم کرنے پر بھی غور جاری ہے جبکہ ایف بی آر کے 11 ہزار ملازمین کو جولائی 2020 میں سر پلس پول بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ایف بی آر افسران و ملازمین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی پاکستان ریونیواتھارٹی کے قیام کے معاملے پراپنے ادارے کی سینئربیوروکریسی کوقائل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ایف بی آرکے چیف کمشنرز کی دو روزہ کانفرنس میں بیوروکریسی کا کہنا تھا ایف بی آرکی جگہ پاکستان ریونیو اتھارٹی کا قیام گھوڑے کوگاڑی کے آگے جوڑنے کے مترادف ہوگا۔ایف بی آرکی عبوری ری سٹرکچرنگ کے منصوبے کی منظوری وزیراعظم نے دی تھی ۔اس منصوبے کے تحت ملک میں پاکستان ریونیواتھارٹی کے نام سے ادارہ قائم کرنا تھا۔وزیراعظم اس منصوبے پر جی ایچ کیوسے بھی مشاورت کرچکے ہیں۔اجلاس کے بعد چیئرمین ایف بی آر نے ٹویٹ کیا ہے کہ اس معاملے پرچیف کمشنرز اور دوسرے افسروں سے میٹنگ مفید رہی تاہم اب اس معاملے پر تمام سٹیک ہولڈرز ،تنظیموں اور سٹاف لیول کے ملازمین سے فیڈ بیک لینے کا بعد فیصلہ کیا جائیگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…