جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

ایسے الیکشن کا کیا فائدہ جس میں پھر ایک فوجی پولنگ سٹیشن کے اندر اور دوسرا باہر کھڑا ہو،کم سے کم کیا چاہتے ہیں؟مولانافضل الرحمان کھل کر بول پڑے

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ  وزیر اعظم سے ذاتی اختلاف نہیں قومی مسئلہ ہے، کم سے کم وزیر اعظم کا استعفیٰ اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں،اصلاحات کے بغیر الیکشن منظور نہیں۔مولانا فضل الرحمن نے اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کم سے کم وزیر اعظم کا استعفیٰ اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں،

اصلاحات کے بغیر تو الیکشن ہمیں بھی منظور نہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے الیکشن کا کیا فائدہ جس میں پھر ایک فوجی پولنگ کے اندر اور دوسرا باہر کھڑا ہو۔انہوں نے کہا کہ موجودہ الیکشن ایکٹ پر بھی عمل کرلیا جائے تو نتائج بہتر ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں کارکن ہوں بڑی اپوزیشن جماعتوں سے اپوزیشن کا سٹئرنگ نہیں چھینا،اے پی سی نے طے کردیا ہے کہ مارچ میں بیٹھے کارکن اب سب کے کارکن ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقتدر حلقوں سے موجودہ صورتحال میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی ضمانت کی خبر سنی ہے ابھی رہا نہیں ہوئی،مریم نواز مارچ میں شرکت کریں گی یا نہیں ابھی نہیں کہہ سکتا۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ ہوا تو ضامن کی ضرورت نہیں۔انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد ہی نہیں استعفیٰ بھی تو آئینی آپشن ہے،استعفی نہیں آتا تو حکومت سنجیدہ نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ڈی چوک سے پرانا تعفن ختم نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے ذاتی اختلاف نہیں قومی مسئلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کورکمانڈر ز کانفرنس نے تناو نہ ہونے کی بات کرکے تصدیق کردی کہ تناو موجود ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ  وزیر اعظم سے ذاتی اختلاف نہیں قومی مسئلہ ہے، کم سے کم وزیر اعظم کا استعفیٰ اور زیادہ سے زیادہ اسمبلیوں کی تحلیل چاہتے ہیں، اے پی سی نے طے کردیا ہے کہ مارچ میں بیٹھے کارکن اب سب کے کارکن ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…