ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

 جلسہ مولانا فضل الرحمان کا ہے جس میں حزب اختلاف شریک ہو رہی ہے،خطاب کون کون کرے گا؟ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا حیرت انگیز ردعمل سامنے آگیا

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)حزب اختلاف کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ جلسہ کے دوران ہی آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا جبکہ جلسے میں شہباز شریف اور بلاول بھٹو دونوں شریک ہوں گے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے  سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ نواز شریف کی طبیعت انتہائی ناساز ہے۔ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نواز شریف کی صحت کو دیکھ رہے تھے لیکن نیب کی حراست میں جانے کے بعد ڈاکٹر عدنان کو بھی نواز شریف سے ملاقات کرنے سے روک دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی پلیٹ لٹس کا معاملہ زیادہ خراب ہو گیا تھا اور ابھی تک کنٹرول میں نہیں آ رہا۔ ان کی پلیٹ لیٹس کبھی زیادہ ہو جاتی ہیں اور کبھی کم۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ نواز شریف کو جب تک اپنے فیصلے خود کرنے کی آزادی نہیں دی جا سکتی اس وقت تک وہ اپنے علاج سے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتے۔ عدالت نے 8 ہفتوں کی آزادی دی ہے لیکن اتنے کم وقت میں بیرون ملک علاج کرانا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا لاہور پہنچنے پر مسلم لیگ ن کی جانب سے بھرپور استقبال کیا گیا تھا۔ شہباز شریف جلسے میں بھی شرکت کریں گے اور خطاب بھی کریں گے۔رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ ہم نے مولانا فضل الرحمان کے مطالبوں کی حمایت کی ہے اور ہم ان کے ساتھ ہیں۔ روات میں بھی میں نے اور احسن اقبال نے اپنے کارکنان کے ہمراہ آزادی مارچ کے شرکا کا بھرپور استقبال کیا۔انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی کا فیصلہ ہے کہ جلسے کے آغاز کے بعد تمام جماعتیں مل کر آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کریں گے۔ دھرنا اگر پر امن ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن دھرنا پرتشدد نہیں ہونا چاہیے۔ٹرین حادثے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریلوے پر بہت سے ایس او پیز بنے ہوئے ہیں جن پر عمل کر کے دہشت گردی سے محفوظ رہا گیا لیکن اگر گیس سلنڈر ٹرین میں موجود تھا تو یہ حکومت کی ناکامی ہے۔پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر الزمان کائرہ نے کہ تبلیغی جماعت والے بھائی سفر کے دوران اپنے ہمراہ بہت سارا سامان لے کر چلتے ہیں اور ریلوے میں کوئی باقاعدہ چیکنک کا نظام موجود نہیں ہے۔

بدقسمت حادثے میں لوگوں کی بھی غلطی ہے اس کا مکمل طور پر ذمہ دار ریلوے کو ٹھرایا نہیں جا سکتا۔آزادی مارچ سے متعلق بات کرتے ہوئے قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کاجمعہ کو ہمارا رحیم یار خان میں جلسہ طے ہے وہاں بھی بلاول بھٹو نے خطاب کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جلسہ مولانا فضل الرحمان کا ہے جس میں حزب اختلاف شریک ہو رہی ہے یہ حزب اختلاف کا مارچ یا جلسہ نہیں ہے۔جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)ف کے رہنما مولانا عطاالرحمان نے کہا کہ آزادی مارچ کے پہنچنے کے بعد جلسہ ہو گا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل وہیں طے کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو اور شہباز شریف دونوں جلسے میں شرکت کریں گے اور دونوں جماعتوں کی بھرپور حمایت ہمیں حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے جو مطالبات سامنے رکھے ہیں انہیں مطالبات کو ہم آگے لے کر چلیں گے۔ حکومت ہمیں برداشت نہیں کر رہی۔ جلسے میں تقریبا 15 لاکھ سے زیادہ لوگ شریک ہو رہے ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…