ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ذاتی معالج کی سہولیات بھی طلب، پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کے علاج کیلئے پرائیویٹ میڈیکل بورڈ بنانے کا مطالبہ کر دیا

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے سابق صدر آصف علی زرداری کے علاج کے لئے پرائیویٹ میڈیکل بورڈبنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے اس سلسلے میں صدر آصف علی زرداری کی صحت کو لاحق خطرات کی وجہ سے حکام کو پرائیویٹ بورڈ بنانے کی درخواست دی ہے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ پرائیویٹ میڈیکل بورڈ کا مطالبہ سرکاری ڈاکٹرز کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

سرکاری ڈاکٹروں کے بورڈ نے اپنی رپورٹ میں صدر آصف علی زرداری کی صحت کو لاحق سنجیدہ مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ خاندان اور پارٹی کے اطمینان کے لئے پرائیویٹ ڈاکٹرز اور معاونین کا بورڈ بنایا جائے۔ سینیٹرمصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ حکومت کے بنائے بورڈ نے آصف علی زرداری کی صحت کے حوالے سے خطرے کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ کے مطابق صدر زرداری کی شریانوں میں خون جم جانا ا ن کی زندگی کے لئے خطرناک ہے جبکہ سابق صدر کا شوگر لیول بھی خطرناک حد تک اوپر نیچے ہو رہا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کے ترجمان نے کہا کہ شوگر لیول کا کنٹرول نہ ہونا صدر زرداری کی زندگی کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سرکاری بورڈ نے جیل میں ہڈیوں کی بیماری مناسب بستر نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا ذکر بھی کیا ہے۔ ارتھو بیرنگ نہ ملنے کی وجہ سے آصف علی زرداری کی کمر کا دیرینہ مرض شدت اختیار کر گیا ہے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ سرکاری بورڈ نے نیورولوجسٹ کی مدد لینے کا بھی کہا ہے تاکہ غیرمعمولی جھٹکوں کا بھی علاج ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ علاج و معالجے کی مناسب سہولیات ہر شخص چاہے وہ قیدی ہو کا بنیادی حق ہے۔ قانون ہر شخص اور قیدی کے علاج و معالجے کی ضمانت دیتا ہے۔ آصف علی زرداری کے علاج کا مطالبہ کوئی ریائیت نہیں قانونی حق ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو ذاتی معالج کی سہولیات فراہم کی جائیں کیونکہ ان کے فیملی ڈاکٹرزصدر آصف علی زرداری کی صحت کو بہتر طور پر جانتے ہیں اور ان کی زندگی بچانے کے لئے بہتر علاج کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر نے سیاست میں برداشت کا اصول قائم کیا جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران ملک بھر کی جیلوں میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ انسانی بیماری پر طنز کرنے والے اخلاقی دیوالیہ کا شکار ہیں۔ سلیکٹڈ اینڈ کمپنی کی کارکردگی سیاسی انتقام تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتقامی سوچ ہی معاشرے کو مہذب بننے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کو جیل میں رکھنے کے لئے حکومت اور نیب کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی سہولیات ایک پاکستانی ہونے کے ناطے صدر آصف علی زرداری کا حق ہے یہ کوئی ریاعت نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…