جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

ذاتی معالج کی سہولیات بھی طلب، پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کے علاج کیلئے پرائیویٹ میڈیکل بورڈ بنانے کا مطالبہ کر دیا

datetime 31  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے سابق صدر آصف علی زرداری کے علاج کے لئے پرائیویٹ میڈیکل بورڈبنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے اس سلسلے میں صدر آصف علی زرداری کی صحت کو لاحق خطرات کی وجہ سے حکام کو پرائیویٹ بورڈ بنانے کی درخواست دی ہے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ پرائیویٹ میڈیکل بورڈ کا مطالبہ سرکاری ڈاکٹرز کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

سرکاری ڈاکٹروں کے بورڈ نے اپنی رپورٹ میں صدر آصف علی زرداری کی صحت کو لاحق سنجیدہ مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ خاندان اور پارٹی کے اطمینان کے لئے پرائیویٹ ڈاکٹرز اور معاونین کا بورڈ بنایا جائے۔ سینیٹرمصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ حکومت کے بنائے بورڈ نے آصف علی زرداری کی صحت کے حوالے سے خطرے کا اظہار کیا ہے۔ بورڈ کے مطابق صدر زرداری کی شریانوں میں خون جم جانا ا ن کی زندگی کے لئے خطرناک ہے جبکہ سابق صدر کا شوگر لیول بھی خطرناک حد تک اوپر نیچے ہو رہا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کے ترجمان نے کہا کہ شوگر لیول کا کنٹرول نہ ہونا صدر زرداری کی زندگی کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ سرکاری بورڈ نے جیل میں ہڈیوں کی بیماری مناسب بستر نہ ملنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا ذکر بھی کیا ہے۔ ارتھو بیرنگ نہ ملنے کی وجہ سے آصف علی زرداری کی کمر کا دیرینہ مرض شدت اختیار کر گیا ہے۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ سرکاری بورڈ نے نیورولوجسٹ کی مدد لینے کا بھی کہا ہے تاکہ غیرمعمولی جھٹکوں کا بھی علاج ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ علاج و معالجے کی مناسب سہولیات ہر شخص چاہے وہ قیدی ہو کا بنیادی حق ہے۔ قانون ہر شخص اور قیدی کے علاج و معالجے کی ضمانت دیتا ہے۔ آصف علی زرداری کے علاج کا مطالبہ کوئی ریائیت نہیں قانونی حق ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو ذاتی معالج کی سہولیات فراہم کی جائیں کیونکہ ان کے فیملی ڈاکٹرزصدر آصف علی زرداری کی صحت کو بہتر طور پر جانتے ہیں اور ان کی زندگی بچانے کے لئے بہتر علاج کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر نے سیاست میں برداشت کا اصول قائم کیا جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران ملک بھر کی جیلوں میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا۔

ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ انسانی بیماری پر طنز کرنے والے اخلاقی دیوالیہ کا شکار ہیں۔ سلیکٹڈ اینڈ کمپنی کی کارکردگی سیاسی انتقام تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتقامی سوچ ہی معاشرے کو مہذب بننے میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری کو جیل میں رکھنے کے لئے حکومت اور نیب کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ طبی سہولیات ایک پاکستانی ہونے کے ناطے صدر آصف علی زرداری کا حق ہے یہ کوئی ریاعت نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…