پیر‬‮ ، 20 اپریل‬‮ 2026 

حکومت کا آزادی مارچ والوں سے مکمل تعاون کا فیصلہ، معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر حکمت عملی بھی تیار، حساس مقامات پر فوج تعینات کرنیکا فیصلہ

datetime 30  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے انعقاد کے لئے معاہدے کے مطابق مکمل تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی بھی تیار کر لی ہے۔ جلسہ گاہ اور مارچ کے شرکاء کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے گا، حساس مقامات کی حفاظت کے لئے فوج تعینات کی جائے گی، ریڈ زون میں داخلہ ممنوعہ ہو گا، شہریوں کو تکلیف سے بچانے کے لئے متبادل راستوں کی تشہیر کی جائے گی،

نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے داخلے اور ہر قسم کے اسلحہ پر پابندی ہو گی۔ چیکنگ کا لائحہ عمل تیار کر کے جے یو آئی (ف) کی قیادت کو آگاہ کر دیا گیا۔ مارچ کے شرکاء روات کے راستے اسلام آباد داخل ہوں گے۔ وزرات داخلہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمن کے مارچ کے حوالے سے وزارت داخلہ میں سکرٹری داخلہ کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں اسلام آباد انتظامیہ سمیت تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں، فوج اور رینجرز کے نمائندوں کے علاوہ چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمن کے مارچ سے متعلق معاملات زیر غور لائے گئے اور اس مارچ کے حوالے سے کئے جانے والے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت معاہد ے کی پاسداری کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ مارچ کے شرکا کو براستہ روات طے شدہ روٹ کے زریعے اسلام آباد آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اجلاس میں ہدایت کی کہ اسلام آباد میں شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور روزمرہ زندگی کو کسی صورت متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے داخلے اور کسی بھی قسم کا اسلحہ لے کر داخل ہونے پر پابندی عائد ہے، اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے باقاعدہ چیکنگ کا لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے جو جے یو آئی ا یف کی قیادت سے شیئر کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں مقیم اور گردنواح سے آنے لوگوں کی سہولت کے لئے ٹریفک پلان مرتب کیا گیا ہے جس میں متبادل راستوں کی تفصیل عوام کو فراہم کی جائیگی۔

اس پلان کو پرنٹ اور الکٹرنک میڈیا کے ذریعے بھی عوام تک پہنچانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اجلاس میں تمام خطرات اور مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے سیکورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ معاہدے کے مطابق ریڈزون میں داخلہ ممنوع ہے۔ سیکورٹی کے لئے پہلے لیول پر پولیس، دوسرے لیول پر رینجرز اور حساس مقامات کی حفاظت کے لئے آرمی کی خدمات لی جائنیگی۔ اجلاس میں معاہدے کی پاسداری نہ ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال سے

نمٹنے کے لئے آئی جی اسلام آباد اور رینجرز کے حکام نے بریفنگ دی۔ اجلاس میں اسلام آباد پولیس اور باہر سے آنے والی نفری کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے راستوں اور دیگر حساس مقامات کا مکمل جائزہ بھی لیا گیا اورجلسہ گاہ اور مارچ کا فضائی جائزہ لینے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ معاہدے اور دیئے گئے پلان پر عمل کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی اور بدمزگی کی صورت میں انتظامیہ حرکت میں آئیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(دوسرا حصہ)


حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…