جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

حکومت کا آزادی مارچ والوں سے مکمل تعاون کا فیصلہ، معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر حکمت عملی بھی تیار، حساس مقامات پر فوج تعینات کرنیکا فیصلہ

datetime 30  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے انعقاد کے لئے معاہدے کے مطابق مکمل تعاون کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ معاہدے کی پاسداری نہ کرنے پر صورتحال سے نمٹنے کی حکمت عملی بھی تیار کر لی ہے۔ جلسہ گاہ اور مارچ کے شرکاء کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جائے گا، حساس مقامات کی حفاظت کے لئے فوج تعینات کی جائے گی، ریڈ زون میں داخلہ ممنوعہ ہو گا، شہریوں کو تکلیف سے بچانے کے لئے متبادل راستوں کی تشہیر کی جائے گی،

نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے داخلے اور ہر قسم کے اسلحہ پر پابندی ہو گی۔ چیکنگ کا لائحہ عمل تیار کر کے جے یو آئی (ف) کی قیادت کو آگاہ کر دیا گیا۔ مارچ کے شرکاء روات کے راستے اسلام آباد داخل ہوں گے۔ وزرات داخلہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق مولانا فضل الرحمن کے مارچ کے حوالے سے وزارت داخلہ میں سکرٹری داخلہ کی زیرصدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں اسلام آباد انتظامیہ سمیت تمام قانون نافذ کرنیوالے اداروں، فوج اور رینجرز کے نمائندوں کے علاوہ چیف کمشنر اور آئی جی اسلام آباد نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمن کے مارچ سے متعلق معاملات زیر غور لائے گئے اور اس مارچ کے حوالے سے کئے جانے والے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت معاہد ے کی پاسداری کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ مارچ کے شرکا کو براستہ روات طے شدہ روٹ کے زریعے اسلام آباد آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اجلاس میں ہدایت کی کہ اسلام آباد میں شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور روزمرہ زندگی کو کسی صورت متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے داخلے اور کسی بھی قسم کا اسلحہ لے کر داخل ہونے پر پابندی عائد ہے، اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے باقاعدہ چیکنگ کا لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے جو جے یو آئی ا یف کی قیادت سے شیئر کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں مقیم اور گردنواح سے آنے لوگوں کی سہولت کے لئے ٹریفک پلان مرتب کیا گیا ہے جس میں متبادل راستوں کی تفصیل عوام کو فراہم کی جائیگی۔

اس پلان کو پرنٹ اور الکٹرنک میڈیا کے ذریعے بھی عوام تک پہنچانے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اجلاس میں تمام خطرات اور مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے سیکورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ معاہدے کے مطابق ریڈزون میں داخلہ ممنوع ہے۔ سیکورٹی کے لئے پہلے لیول پر پولیس، دوسرے لیول پر رینجرز اور حساس مقامات کی حفاظت کے لئے آرمی کی خدمات لی جائنیگی۔ اجلاس میں معاہدے کی پاسداری نہ ہونے کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال سے

نمٹنے کے لئے آئی جی اسلام آباد اور رینجرز کے حکام نے بریفنگ دی۔ اجلاس میں اسلام آباد پولیس اور باہر سے آنے والی نفری کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے راستوں اور دیگر حساس مقامات کا مکمل جائزہ بھی لیا گیا اورجلسہ گاہ اور مارچ کا فضائی جائزہ لینے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ معاہدے اور دیئے گئے پلان پر عمل کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی اور بدمزگی کی صورت میں انتظامیہ حرکت میں آئیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…