جمعرات‬‮ ، 08 اکتوبر‬‮ 2026 

خان عبدالولی خان ،مفتی محمود اور فاطمہ جناح کو کیوں غدار قراردیاگیا؟جے یو آئی (ف) کے سینیٹر حافظ حمد اللہ کھل کر بول پڑے، کھری کھری سنادیں

datetime 29  اکتوبر‬‮  2019 |

کوئٹہ (آن لائن )جمعیت علماءاسلام کے مرکزی رہنماءوسابق سینیٹر حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کافیصلہ خوش آئند اقدام ہے مجھے صرف ا س لئے غیر ملکی قرار دیا کہ ملک میں جمہور کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کی بات کرتا ہوں خان عبدالولی خان ،مفتی محمود اور فاطمہ جناح کو اس لئے غدار قرار دیا کہ ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی چاہتے تھے ملک میں دہشتگردی پھیلانے والے ملافضل اللہ،صوفی محمد،بیت اللہ مسعود اور مسعود اظہر کو کیوں

غیر ملکی قرار نہیں دیا کیونکہ وہ ان کے ہاں میں ہاں ملانے والے تھے سچ ہر حال میں بولوں گا چاہیے اس کیلئے ہمیں اس سے بھی بڑا سزا کیوں نہ ملے ان خیالات کااظہار آپ غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کیا سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ ملک میں جمہوری کی حکمرانی کیلئے آواز بلند کی ہے میرے والد جب ویزہ لیکر افغانستان گیا تو افغان حکام نے اس وقت میرے والد کو گرفتار کر کے کہا کہ آپ پاکستان کے اداروں کیلئے کام کررہے ہو اس بنیاد پر میرے والد کو گرفتار کیا مگر آج میرے ملک کے ادارے مجھے کہہ رہے ہیں کہ حافظ حمد اللہ غیر ملکی ہے صرف مجھے اس لئے غیر ملکی قرار دیا کہ ہر معاملے پر سچ بولتا ہوں میرے والد اور میرے بچوں کو غیر ملکی کیوں نہیں قرار دیا انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے یہاں ان کو غدار قرار دیا جاتا ہے جو سچ بولنے کے ساتھ ساتھ آئین اورقانون کی حکمرانی کیلئے جدوجہد کی ہے مولانا مفتی محمود ،خان عبدالولی خان اور فاطمہ جناح کو اس لئے غدار قرار دیا کہ انہوں نے ہر آمرانہ دور میں آئین کی بالادستی کی بات کی اور فاطمہ جناح کو اس لئے غدار قرار دیا کہ انہوں نے جنرل ایوب کے مقابلے میں صدارتی انتخابات لڑے انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو کیوں غیر ملکی قرار نہیں دیتے جو دہشتگردی جیسے سنگین واقعات میں ملوث رہیں ملافضل اللہ ،صوفی محمد،بیت اللہ مسعود اور مسعود اظہر جو کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق بھی وہ مجرم ہیں ان کوغیر ملکی کیوں نہیں قرار دیا انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ سچ بولا ہے اور سچ بولنے کیلئے ہم ہر قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…