جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

رواں برس کے دوران پاکستان بھر میں پولیو کیسز کی تعداد کہاں تک پہنچ گئی؟تشویشناک صورتحال

datetime 27  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)خیبرپختونخوا میں پولیو کا مزید ایک کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں رواں برس کے 10 ما کے دوران پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 77 تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز(این آئی ایچ) کی وائرولوجی لیبارٹری کے عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ پولیو کا نیا کیس ضلع لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ سے رپورٹ کیا گیا۔عہدیدار کے مطابق

بچہ پولیو وائرس کا شکار اس وجہ سے ہوا کیونکہ اس کے والدین پولیو ویکسین کے خلاف تھے اور بچے کو انسداد پولیو ویکسین کا ایک بھی ڈوز دینے کی اجازت نہیں دی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ والدین اپنے بچوں کو ویکسین نہیں پلاتے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ ان کے بچوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے‘۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں پولیو کا حالیہ کیس سامنے آنے کے بعد رواں برس ملک میں پولیو سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد 77 تک پہنچ گئی ہے۔سال 2018 میں ملک بھر میں پولیو کے 12 اور 2017 میں صرف 8 کیسز سامنے آئے تھے۔تاہم رواں برس رپورٹ کیے جانے والے پولیو کیسز کے صوبائی اعداد و شمار کے مطابق اب تک صوبہ خیبرپختونخوا میں پولیو کے 57 کیسز سامنے آئے ہیں۔صوبے بھر سے رپورٹ کیے گئے 57 کیسز میں سے 23 ضلع بنوں سے، ضلع لکی مروت سے 11، ضلع شمالی وزیرستان سے 8، ضلع تورغر سے 7، ضلع سے ہنگو سے 2 اور چارسدہ، ڈیرہ اسمٰعیل خان، شانگلہ، باجوڑ اور خیبر اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع سے ایک، ایک کیسز رپورٹ کیے گئے۔دوسری جانب صوبہ سندھ میں کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور جامشورو سے کْل 8 کیسز سامنے آئے۔صوبہ بلوچستان سے قلعہ عبداللہ، جعفرآباد، ہرنائی اور کوئٹہ کے اضلاع سے 7 کیسز اور صوبہ پنجاب میں لاہور اور جہلم سے پولیو کے 5 کیسز رپورٹ کیے گئے۔برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق گلوبل

کمیشن فار سرٹیفکیشن آف پولیو ایریڈیکشن نے 24 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ پولیو وائرس کی 3 اقسام میں سے ایک کا عالمی طور پر خاتمہ ہوچکا ہے۔عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے اس اقدام کو پولیو سے پاک دنیا کی جانب ایک ’ تاریخی قدم ‘ قرار دیا۔خیال رہے کہ 2015 میں دنیا سے پولیو وائرس

ٹائپ 2 کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا اور رواں ہفتے ٹائپ 3 کے خاتمے سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ صرف پولیو وائرس ٹائپ ون تاحال موجود ہے۔1988 کے بعد عالمی سطح پر پولیو کیسز میں 99 فیصد کمی آئی ہے لیکن پاکستان اور افغانستان میں ٹائپ ون پولیو تاحال عام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…