ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

نائیک سیف علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے بھارتی فوجی اپنے جوانوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے ،ماضی کی شاندار داستان

datetime 26  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پر جان قربان کرنے اور نشان حیدر پانے والے پہلے کشمیری نائیک سیف علی شہید کا 71 یوم شہادت منایا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق سیف علی شہید نے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں پیر کلیوہ کے مقام پر دشمن کو ناکون چنے چبواتے ہوے جام شہادت نوش کیا۔ناییک سیف علی جنجوعہ 18 سال کی عمر میں برٹش انڈین آرمی میں شامل ہوے،1947 میں وہ سردار فتح محمد کریلوی کی حیدری فورس میں

شامل ہو گئے جہاں انہیں ناییک کا عہدہ دیا گیا،14 اگست 1947 سے لیکر آج تک قیام پاکستان کے دشمن بھارت نے 1948 میں جنت نظیر کشمیر پر حملہ کر کے پیر کلیدہ راجوری کی ایک بلند چوٹی پر قبضہ کر کے وہاں اپنی چوکی قائم کر لی، دفاعی نکتہ نظر سے اہمیت کی حامل اس چوٹی سے دشمن کا قبضہ ختم کرانے کا ٹاسک ناییک سیف علی جنجوعہ کو سونپا گیا،وہ ایک مختصر سی پلاٹوں کے ہمراہ مہم پر روانہ ہوئے۔26 اکتوبر 1948 کی صبح سیف علی نے جو چوکی کے قریب ہی ایک مورچے میں موجود تھے اپنے اوپر سے ایک بھارتی طیارہ گزرتے دیکھا، انہوں نے حملے کی زد میں آنے سے پہلے ہی مشین گن سے دشمن کے طیارے پر فائرنگ شروع کر دی، طیارہ قلابازیاں کھاتا زمین بوس ہو گیا، اسی دوران نائیک سیف علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے، یہ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ بھارتی فوجیوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا اور وہ اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگنے لگے،اسی وقت ان میں سے ایک نے بھاگتے ہوئے توپ کا ایک گولہ داغا جو سیف علی کے سینے پہ جا لگا اور وہ شجاعت کی عظیم داستان رقم کرتے کے بعد شہید ہو گئے ۔آزاد کشمیر حکومت نے 14 مارچ 1949 کو سیف علی کو ہلال کشمیر سے نوازا، جسے 30 نومبر 1995 کو حکومت پاکستان نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے نشان حیدر کے مساوی قرار دیدیا۔ نائیک سیف علی شہید کی جرات و بہادری اور پاک دھرتی کے لیے لازوال قربانی کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے 30 اپریل 2013 کو انکی یاد میں یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…