منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

نائیک سیف علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے بھارتی فوجی اپنے جوانوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے ،ماضی کی شاندار داستان

datetime 26  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان پر جان قربان کرنے اور نشان حیدر پانے والے پہلے کشمیری نائیک سیف علی شہید کا 71 یوم شہادت منایا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق سیف علی شہید نے 1948 کی پاک بھارت جنگ میں پیر کلیوہ کے مقام پر دشمن کو ناکون چنے چبواتے ہوے جام شہادت نوش کیا۔ناییک سیف علی جنجوعہ 18 سال کی عمر میں برٹش انڈین آرمی میں شامل ہوے،1947 میں وہ سردار فتح محمد کریلوی کی حیدری فورس میں

شامل ہو گئے جہاں انہیں ناییک کا عہدہ دیا گیا،14 اگست 1947 سے لیکر آج تک قیام پاکستان کے دشمن بھارت نے 1948 میں جنت نظیر کشمیر پر حملہ کر کے پیر کلیدہ راجوری کی ایک بلند چوٹی پر قبضہ کر کے وہاں اپنی چوکی قائم کر لی، دفاعی نکتہ نظر سے اہمیت کی حامل اس چوٹی سے دشمن کا قبضہ ختم کرانے کا ٹاسک ناییک سیف علی جنجوعہ کو سونپا گیا،وہ ایک مختصر سی پلاٹوں کے ہمراہ مہم پر روانہ ہوئے۔26 اکتوبر 1948 کی صبح سیف علی نے جو چوکی کے قریب ہی ایک مورچے میں موجود تھے اپنے اوپر سے ایک بھارتی طیارہ گزرتے دیکھا، انہوں نے حملے کی زد میں آنے سے پہلے ہی مشین گن سے دشمن کے طیارے پر فائرنگ شروع کر دی، طیارہ قلابازیاں کھاتا زمین بوس ہو گیا، اسی دوران نائیک سیف علی اپنے ساتھیوں کے ساتھ دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑے، یہ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ بھارتی فوجیوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا اور وہ اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر بھاگنے لگے،اسی وقت ان میں سے ایک نے بھاگتے ہوئے توپ کا ایک گولہ داغا جو سیف علی کے سینے پہ جا لگا اور وہ شجاعت کی عظیم داستان رقم کرتے کے بعد شہید ہو گئے ۔آزاد کشمیر حکومت نے 14 مارچ 1949 کو سیف علی کو ہلال کشمیر سے نوازا، جسے 30 نومبر 1995 کو حکومت پاکستان نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے نشان حیدر کے مساوی قرار دیدیا۔ نائیک سیف علی شہید کی جرات و بہادری اور پاک دھرتی کے لیے لازوال قربانی کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے 30 اپریل 2013 کو انکی یاد میں یادگاری ٹکٹ بھی جاری کیا۔



کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…