جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

آزادی مارچ، حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم

datetime 26  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت کی مذاکراتی ٹیم اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان حکومت مخالف ‘آزادی مارچ’ کے حوالے سے دو مراحل میں ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے۔گذشتہ روز مذاکرات میں چند گھنٹے کے وقفے کے بعد حکومتی مذاکراتی کمیٹی ایک بار پھر اسلام آباد میں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی کی رہائش گاہ پہنچی۔

تاہم فریقین کی بات چیت کسی نتیجے کی طرف نہیں پہنچ سکی اور مذاکرات بے نتیجہ ختم ہوگئے۔مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ ‘کافی بات چیت ہوئی لیکن آج فیصلہ نہیں ہو سکا تاہم مذاکرات جاری رہیں گے۔رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے کہا کہ ‘ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے جبکہ آئندہ مذاکرات کے لیے کوئی تاریخ بھی طے نہیں ہوئی۔قبل ازیں حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے دوران اپوزیشن نے اپنے تمام مطالبات ان کے سامنے رکھے جس کے بعد فریقین نے قیادت سے مشورے کے لیے مذاکرات میں وقفہ دیا۔زرائع کے مطابق اپوزیشن اور حکومت کے درمیاں چار نکات میں سے صرف ایک نکتے پر مذاکرات ہوئے جبکہ دیگر مطالبات پر کوئی بات نہیں ہوئی جن میں وزیر اعظم کا استعفیٰ، نئے انتخابات اور آئین میں موجود اسلامی دفعات کا تحفظ شامل تھا۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے ڈی چوک پر جلسے کی اجازت دینے سے معذرت کرتے ہوئے اپوزیشن کو پریڈ گراؤنڈ میں جلسے کی تجویز دی۔تاہم اپوزیشن نے پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کرنے سے انکار کر دیا۔اس موقع پر حکومتی کمیٹی نے ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی اپوزیشن کے سامنے رکھا۔حکومتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے چاروں مطالبات تحریری طور پر حکومتی ٹیم کے حوالے کر دیے ہیں اور حکومتی ٹیم نے مطالبات پر وزیر اعظم سے مشاورت کے لیے وقت مانگا ہے۔مذاکرات کے پہلے سیشن کے اختتام کے بعد حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ دونوں طرف سے تجاویز دی گئی ہیں اور انشااللہ جلد خوشخبری دیں گے۔

رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے کہا کہ حکومتی ٹیم کے ساتھ اچھی مشاورت ہوئی، کچھ تجاویز ہم نے اور کچھ حکومتی کمیٹی نے دی ہیں۔حکومتی کمیٹی میں پرویز خٹک، قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیر مذہبی امور نورالحق قادری، وزیر تعلیم شفقت محمود، پنجاب اسمبلی کے اسپیکر پرویز الہٰی اور رکن قومی اسمبلی اسد عمر شامل تھے۔اپوزیشن کی جانب سے پیپلز پارٹی کے نیئر بخاری اور فرحت اللہ بابر، مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال اور ایاز صادق، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے میاں افتخار حسین، قومی وطن پارٹی کے ہاشم بابر، نیشنل پارٹی کے طاہر بزنجو اور جمعیت علمائے پاکستان (جے یو پی) کے اویس نورانی نے مذاکرات میں حصہ لیا۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…