جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

دنیا بھر کی سکھ برادری کیلئے بہت بڑا دن ،پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری منصوبے سے متعلق معاہدے پر دستخط ،تفصیلات بھی سامنے آگئیں

datetime 24  اکتوبر‬‮  2019 |

؁ اسلام آباد( آن لائن )پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کا منصوبہ فعال کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط ہوگئے جس کے بعد بھارت اور دنیا کے دوسرے حصوں سے سکھ برادری دنیا کے سب سے بڑے گرد وارے آسکے گی۔کرتارپور راہداری کا منصوبہ فعال کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کی تقریب کرتارپور زیرو لائن پر منعقد ہوئی۔

اس موقع پر پاکستان کی جانب سے ترجمان دفتر خارجہ اور ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیاو سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے جبکہ بھارت کی جانب سے بھارتی وزارت امور خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ایس سی ایل داس نے دستخط کیے۔معاہدے پر دستخط کے بعد ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے امن کا پودا بھی لگایا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کیے گئے معاہدے کے تحت روزانہ 5 ہزار سکھ یاتری بغیر ویزا گوردوارہ کرتار پور صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرسکیں گے۔معاہدے کے تحت 5 ہزار میں انفرادی یا گروپ کی شکل میں یاتری پیدل یا سواری کے ذریعے صبح سے شام تک سال بھر ناروال کرتارپورآسکیں گے تاہم سرکاری تعطیلات اور کسی ہنگامی صورتحال میں یہ سہولت میسر نہیں ہوگی۔علاوہ ازیں سکھ یاتریوں کو موثر بھارتی پاسپورٹ پر کرتارپور راہداری استعمال کرنے کی اجازت ہوگی،بیرون ملک رہائشی سکھ یاتریوں کو بھارتی اوریجن کارڈ پر اس سہولت کا فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی۔اس سلسلے میں بھارتی حکومت سکھ یاتریوں کی فہرست دس دن قبل پاکستان کے حوالے کرے گی۔ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ بھارتی سکھ یاتری ایک روزہ دورے پر پاکستان آئیں گے اور سروسز چارجز کی مد میں فی کس 20 ڈالر ادا کریں گے۔

اس سے قبل بھارتی وزارت خارجہ نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت 23 اکتوبر 2019 کو کرتار پور راہداری کے سمجھوتے پر دستخط کرنے کے لیے آمادہ ہے۔خیال رہے کہ مذکورہ سمجھوتے کی تفصیلات پر رواں برس مارچ سے مذاکرات کیے جارہے تھے اور بات چیت کا پہلا دور اٹاری واہگہ سرحد پر بھارتی مقام میں 14 مارچ کو منعقد ہوا تھا۔دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوران مختلف امور پر اختلاف پایا گیا جس میں یاتریوں کی تعداد، راہداری کھلے رہنے کی مدت اور پاکستان سکھ پربندھک کمیٹی (پی اسی جی پی سی) میں شامل اراکین کا معاملہ بھی شامل تھا۔خیال رہے کہ کرتارپور گردوارے تک سکھ یاتریوں کو ویزا کے بغیر رسائی دینے والی راہداری کا افتتاح 12 نومبر کو گرو نانک کی 550ویں جنم دن کے پیشِ نظر 3 روز قبل 9 نومبر کو کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…