جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

بنک الفلاح کا قبل از ٹیکس منافع 16 فیصد بڑھ گیا

datetime 19  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) بنک الفلاح لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ابوظہبی میں منعقدہ 18 اکتوبر کے اجلاس میں 30 ستمبر 2019 کو اختتام پذیر ہونے والی مدت کے لئے بنک کے غیرآڈت شدہ عبوری مالیاتی نتائج کی منظوری دے دی ہے۔ بنک کا قبل از ٹیکس منافع مشکل صورتحال کے باوجود گزشتہ سال کے مقابلے میں 16 فیصد بڑھ گیا۔ بینک نے منی بجٹ 2019 میں سال 2017 کے منافع پر سپر ٹیکس چارج عائد ہونے کے باوجود

بعد از ٹیکس 9.242 ارب روپے یا 5.20 روپے فی شیئر حاصل کیا جو گزشتہ سال کے 8.629 ارب روپے یا 4.87 روپے فی شیئر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں بینک کے ریونیو میں 29 فیصد اضافہ ہوا۔ انٹرسٹ سے حاصل منافع میں اضافے کے ساتھ بہتر اوسط ڈیپازٹس، بڑھتے ہوئے اوسط قرضوں اور موثر بیلنس شیٹ کے انتظام سے خالص مارک اپ آمدن میں مستحکم اضافہ ہوا۔ فیس اور کمیشن سے حاصل آمدن گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ رہی۔ گزشتہ سال حکومتی سیکورٹیز پر گین حاصل ہوا اور کم کیپٹل گینز اور ایمپیئرمنٹ چارج کے پیچھے وجوہات میں سال 2019 کی پہلی ششماہی کے دوران اسٹاک مارکیٹ کی نازک صورتحال ہے ۔ انتظامی اخراجات گزشتہ اسی عرصہ کے مقابلے میں 21 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے مرکزی عوامل کی وجوہات میں ٹیکنالوجی، مارکیٹنگ، ڈیپازٹ پروٹکشن انشورنس(جو ایک نئی لیوی ہے)، برانچ کھولنے جیسے نئے اقدامات کے ساتھ افراط زر سے متعلق ایڈجسٹمنٹس اور روپے کی گراوٹ شامل ہیں۔ بینک کی شرح آمدن کی لاگت میں گزشتہ سال اسی عرصہ میں 56 فیصد کے مقابلے میں 53 فیصد بہتری آئی جو بینک کی جانب سے لاگت کنٹرول کرنے کا ثبوت ہے۔ بینک نے 31 دسمبر 2018 میں 77 فیصد کے مقابلے میں 30 ستمبر 2019 کو CASA Mixبڑھ کر 80 فیصد ہوا جبکہ اس کے ساتھ اسکی بڑھتے ہوئے غیرمنافع بخش ڈیپازٹس پر

توجہ رہی ۔ بینک کے لئے کریڈٹ کی کارکردگی بدستور مستحکم کاروبار رہی۔ بینک کے مجموعی قرضے کاروباری اثرات کی وجہ سے 5 فیصد کمی کے ساتھ 490.664 ارب روپے رہے۔ اس کے ساتھ بینک نے اپنے پورے نیٹ ورک میں کیپٹل اور لیکویڈیٹی کا زیادہ سے زیادہ استعمال جاری رکھا ہوا ہے۔ ستمبر کے اختتام پر بدستور مناسب سرمائے کے ساتھ بینک کے CAR کی شرح 16.87 فیصد رہی بینک الفلاح کے سی ای او نعمان

انصاری نے اس سہ ماہی میں بینک کی کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا، “اگرچہ کسٹمرز کو اپنی جانب متوجہ کرنے اور انہیں مسلسل خدمات کی فراہمی کے لئے برانچ کی اپنی اہمیت ہے تاہم ریٹیل بینکنگ انڈسٹری موبائل سے کسٹمر کو خدمات کی فراہمی کی جانب تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ صارفین کے مسلسل اصرار کی وجہ سے بینک الفلاح کی دونوں طرح برانچز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز پر سرمایہ کاری خاطر خواہ بڑھ گئی ہے۔”

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…