بدھ‬‮ ، 02 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم جوڈیشل کونسل کے جواب پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بھی خاموش نہ رہے،اپنے اعتراضات عدالت عظمیٰ میں جمع کرادیئے

datetime 14  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)جسٹس قاضی فائز کیخلاف صدارتی ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل کے جواب پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اعتراضات عدالت عظمیٰ میں جمع کرادیئے۔ اعتراض میں کہاگیاکہ کونسل کی جانب سے اٹارنی جنرل کا جواب جمع کرانا خلاف ورزی ہے۔جواب میں کہاگیاکہ کونسل کو اختیار حاصل نہیں تھا کہ اٹارنی جنرل کو جواب جمع کرانے کی زمہ داری دیتی ۔ جواب میں کہاگیاکہ کونسل کی جانب سے اٹارنی جنرل کو

اپنا وکیل تفویض کرنا آئین کی شق 100 کی خلاف ورزی ہے ۔ اعتراض میں کہاگیاکہ اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان فیڈرل گورنمنٹ کی نمائندگی کر تے ہیں، اٹارنی جنرل کو ایسی کارروائی میں ملوث نہیں ہونا چاہیے جس کے لئے حکومت نے انہیں مختص نہیں کیا۔ جواب میں کہاگیاکہ الزامات پر سپریم جوڈیشل کونسل اورسیکریٹری کی جانب سے مناسب جواب نہ آنے کی صورت میں الزامات کو تسلیم شدہ تصور کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…