منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

مذاکرات کا وقت ختم ہو گیا، ڈنڈوں کے بارے میں کوئی قانون ہو تو بتائے، پورے ملک کی پولیس،فورسز کو اتنا مصروف کر دینگے کہ وہ توبہ کرینگے،مولانا فضل الرحمان کھل کرسامنے آگئے،دھماکہ خیز اعلان

datetime 13  اکتوبر‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جتنا حکومت ہمیں چلینج کرے گی ہمارے حوصلے مزیدمضبوط ہوں گے، ڈنڈوں کے بارے میں کوئی قانون ہو تو بتائے، آج کوئی پستول چاقو تک نہیں تھا۔مولانا فضل الرحمان نے بلور ہاؤس میں اے این پی کے سینئر رہنماء غلام احمدبلور سے ملاقات کی۔میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمان کاکہنا تھا کہ حاجی غلام بلور کے ساتھ بہت پرانا رشتہ ہے،

معلوم ہوا کے کہ میری کوئی خبر میڈیا پر نہیں چل رہی، لگتا ہے پیمرا نے پابندی لگائی ہے،  صحافیوں کومخاطب کرتے ہوئے مولانا کاکہنا تھا کہ آپ سب میڈیا نمائندے ہیں، اور دن رات ڈیوٹی کرتے ہیں، میں تمام میڈیا رپورٹرز کو آزادی مارچ کا حصہ بننے کی دعوت دیتا ہوں، صحافی بھی اس مارچ کا حصہ بنیں، اے این پی نے آزادی مارچ میں بھرپور شرکت اور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، مولانا فضل الرحمان کاکہنا تھا کہ ڈنڈوں کے  بارے میں کوئی قانون ہو تو بتائے، آج کوئی پستول چاقو تک نہیں تھا، جتنا حکومت ہمیں چلینج کرئے گی ہمارے حوصلے مزید مظبوط ہوں گے، اگر ہم میں سے کسی کو گرفتار کیا گیا تو پھر پلان بی پر عمل ہو گا، ہمارا پلان بھی اس سے بھی زیادہ خطرناک ہو گا، ہم مکمل پر امن ہیں، ہمیں چھیڑنے کی کوشش نہ کی جائے، حکومت ہماری ازباتوں کو سنجیدہ نہیں لے رہے تھے، اب کیوں خاموش ہیں۔ہمارا فیصلہ فیصلہ ہے، اب مذاکرات کا وقت ختم ہو گیا، پورے ملک کی پولیس اور فورسز کو ہم اتنا مصروف کر دیں گے کہ وہ توبہ کریں گے،اس موقع پر غلام احمدبلور کاکہنا تھا کہ ہماری پارٹی نے فیصلہ کر لیا ہے آزادی مارچ میں بھرپورشرکت کریں گے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جتنا حکومت ہمیں چلینج کرے گی ہمارے حوصلے مزیدمضبوط ہوں گے، ڈنڈوں کے بارے میں کوئی قانون ہو تو بتائے، آج کوئی پستول چاقو تک نہیں تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…