پیر‬‮ ، 13 اپریل‬‮ 2026 

ملازمین کی بھرتیوں کا طریقہ کار سمجھ سے بالاتر، جہاں 500 ملازمین کی ضرورت ہو وہاں 2 بھی نہیں ہوتے، جہاں 10آدمیوں کی ضرورت ہو وہاں 500 بھرتی کر لیے جاتے ہیں،سپریم کورٹ حکومت پر برس پڑی

datetime 25  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(سی پی پی)سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ملک کا نظام ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے، تمام ادارے خراب ہو چکے۔سپریم کورٹ میں شیخ خلیفہ بن زید اسپتال کے عملہ صفائی کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

جسٹس گلزار احمد نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کی بھرتیوں کا طریقہ کار ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، جہاں پانچ سو ملازمین کی ضرورت ہو وہاں دو بھی نہیں ہوتے، جہاں دس آدمیوں کی ضرورت ہووہاں پانچ سو بھرتی کر لیے جاتے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سیاسی بھرتیوں کی منظوریوں نے ہمیں مشکل میں ڈال رکھا ہے، کابینہ سے سیاسی بھرتیوں کی توثیق بھی کروا لی جاتی ہے، سیاسی بھرتیوں سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، پورے ملک کا نظام ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے، ملک کے تمام ادارے خراب ہو چکے ہیں۔صوبائی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ سروس ٹربیونل کے دائرہ اختیار پراعتراض کیا تھا، تمام ملازمین سرکاری نہیں ٹھیکیدار کی ملازمت کرتے ہیں۔ سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عملہ صفائی کے 13 ملازمین کو مستقل کر دیا ہے اور 36 ملازمین کا معاملہ عدالت میں زیرالتوا ہے۔سپریم کورٹ نے ملازمین کی مستقلی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کو ملازمین کی مستقلی کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…