منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

ملازمین کی بھرتیوں کا طریقہ کار سمجھ سے بالاتر، جہاں 500 ملازمین کی ضرورت ہو وہاں 2 بھی نہیں ہوتے، جہاں 10آدمیوں کی ضرورت ہو وہاں 500 بھرتی کر لیے جاتے ہیں،سپریم کورٹ حکومت پر برس پڑی

datetime 25  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(سی پی پی)سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ملک کا نظام ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے، تمام ادارے خراب ہو چکے۔سپریم کورٹ میں شیخ خلیفہ بن زید اسپتال کے عملہ صفائی کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

جسٹس گلزار احمد نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کی بھرتیوں کا طریقہ کار ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، جہاں پانچ سو ملازمین کی ضرورت ہو وہاں دو بھی نہیں ہوتے، جہاں دس آدمیوں کی ضرورت ہووہاں پانچ سو بھرتی کر لیے جاتے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سیاسی بھرتیوں کی منظوریوں نے ہمیں مشکل میں ڈال رکھا ہے، کابینہ سے سیاسی بھرتیوں کی توثیق بھی کروا لی جاتی ہے، سیاسی بھرتیوں سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، پورے ملک کا نظام ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے، ملک کے تمام ادارے خراب ہو چکے ہیں۔صوبائی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ سروس ٹربیونل کے دائرہ اختیار پراعتراض کیا تھا، تمام ملازمین سرکاری نہیں ٹھیکیدار کی ملازمت کرتے ہیں۔ سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عملہ صفائی کے 13 ملازمین کو مستقل کر دیا ہے اور 36 ملازمین کا معاملہ عدالت میں زیرالتوا ہے۔سپریم کورٹ نے ملازمین کی مستقلی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کو ملازمین کی مستقلی کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…