جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

ملازمین کی بھرتیوں کا طریقہ کار سمجھ سے بالاتر، جہاں 500 ملازمین کی ضرورت ہو وہاں 2 بھی نہیں ہوتے، جہاں 10آدمیوں کی ضرورت ہو وہاں 500 بھرتی کر لیے جاتے ہیں،سپریم کورٹ حکومت پر برس پڑی

datetime 25  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(سی پی پی)سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ ملک کا نظام ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے، تمام ادارے خراب ہو چکے۔سپریم کورٹ میں شیخ خلیفہ بن زید اسپتال کے عملہ صفائی کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

جسٹس گلزار احمد نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کی بھرتیوں کا طریقہ کار ہماری سمجھ سے بالاتر ہے، جہاں پانچ سو ملازمین کی ضرورت ہو وہاں دو بھی نہیں ہوتے، جہاں دس آدمیوں کی ضرورت ہووہاں پانچ سو بھرتی کر لیے جاتے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سیاسی بھرتیوں کی منظوریوں نے ہمیں مشکل میں ڈال رکھا ہے، کابینہ سے سیاسی بھرتیوں کی توثیق بھی کروا لی جاتی ہے، سیاسی بھرتیوں سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، پورے ملک کا نظام ایڈہاک ازم پر چل رہا ہے، ملک کے تمام ادارے خراب ہو چکے ہیں۔صوبائی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ سروس ٹربیونل کے دائرہ اختیار پراعتراض کیا تھا، تمام ملازمین سرکاری نہیں ٹھیکیدار کی ملازمت کرتے ہیں۔ سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عملہ صفائی کے 13 ملازمین کو مستقل کر دیا ہے اور 36 ملازمین کا معاملہ عدالت میں زیرالتوا ہے۔سپریم کورٹ نے ملازمین کی مستقلی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کو ملازمین کی مستقلی کا جائزہ لینے کا حکم دیا۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…