پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

خودکشی کر نے والے کس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں؟مردوں اور عورتوں میں خودکشی کا تناسب کتنا ہے؟ماہرین کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 16  ستمبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) اسلامی ممالک میں خودکشی کا تناسب دوسرے ممالک کی بنسبت کم ہے۔ مرد حضرات عورتوں کے مقابلے میں تین گناہ زیادہ خودکشی کر تے ہیں۔دنیا میں ہر 40سیکنڈ میں ایک شخص خودکشی کرتا ہے جس کی تعداد لاکھوں میں شمار کی جاسکتی ہے۔عموماًخودکشی کر نے والے کسی نہ کسی نفسیاتی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ مقررنین نے کہا 12سے 14سال کے بچوں میں خودکشی کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔

ایسے بچے جن کے والدین کم پڑھے لکھے یا مائیں کسی ذہنی بیماری کا شکار ہوں یا پھر ایسے بچے جو جلدی تشدد پر اتر آئیں اور تنقید برداشت نہ کر سکیں۔ایسے بچے اقدام خودکشی سے پہلے ڈیپریسڈ دکھائی دیتے ہیں ایسے بچوں کو فوراً کسی ماہر نفسیات کو دکھاناچاہئے۔ ڈیپریشن میں مبتلا 6فیصد افراد خودکشی کر تے ہیں شراب اور مختلف نشہ کر نے والوں میں خودکشی کا تناسب زیادہ ہے خودکشی کی معاشرتی وجوہات میں بے روزگاری، غربت، طلاق اور رشتے میں دراڑیں پڑنا بھی شامل ہے۔ میڈیا اور ٹی وی پروگرام میں خودکشیوں کے سین دکھانے سے بھی بیمار ذہن اس طرف راغب ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار منتظم اعلیٰ کراچی نفسیاتی ہسپتال ڈاکٹر عبد الرحمن بن مبین، ڈاکٹر اختر فرید صدیقی،ڈاکٹر صلاح الدین،ڈائیریکٹر ماہ ُخ اختر نے عالمی یوم انسداد خودکشی کے موقع پر مرکز میں منعقدہ میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ماہرین نے کہا اکثر مریضوں کو داخل کر کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ اکثر مریض صرف کونسیلنگ سے بھی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔آغاخان ہسپتال کے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں خودکشی کا سالانہ تناسب چھ سے آٹھ ہزار افرادہے۔ جبکہ سالانہ 60ہزار سے ایک لاکھ افراد خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔جبکہ خودکشی کی سوچ رکھنے والے افراد کی تعداد چھ سے آٹھ لاکھ ہے۔مقررین نے کہا کہ سب سے زیادہ خودکشی کی رپورٹ سندھ میں 52فیصد، پنجاب میں 38فیصد جبکہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں 05فیصد ہے

مقررین نے کہا کہ زیادہ تر خودکشی کے واقعات خاندانی جھگڑے 45فیصد، معاشی پریشانی و بے روزگاری 37فیصد، محبت میں ناکامی7فیصد، نفسیاتی بیماری 6فیصد، جسمانی بیماری 8فیصد اور امتحان میں ناکامی5فیصد ہے۔ پاکستان میں مرد عورتوں کی مقابلے میں زیادہ خودکشی کر تے ہیں مردوں میں 51فیصد شادی شدہ، 44فیصد غیر شادی شدہ،اور 5فیصد طلاق یافتہ یا رنڈوں کی ہوتی ہے۔جبکہ خواتین میں 60فیصد شادی شدہ، 35 فیصد غیر شادی شدہ کی ہوتی ہے۔مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی شخص خودکشی کے متعلق ذکر کر ے تو اُسے معمولی نہ لیا جائے بلکہ اُسے فوراً کسی ماہر نفسیات کو دکھایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…