جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ججز کے فیصلوں پر وہ لوگ تبصرہ کرتے ہیں جنہیں قانون کا پتہ ہی نہیں،بہتری لانے کیلئے کیا کرنا ہوگا؟چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انتباہ کردیا

datetime 14  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ رویوں کو تبدیل کئے بغیر بہتری نہیں لائی جاسکتی،بہتری لانے کیلئے ادارے، رویے اورسوچ کو ایک پیج پرلانا ہوگا، جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں تاریخ بن نہیں رہی بلکہ حقائق اجاگرہورہے ہیں،ہمارے پاس بہترین ججزکام کررہے ہیں مگرتاریخ دان بتائیں گے ہمارے ججز فیصلے کرتے ہوئے معیار پریاتعداد پر یقین رکھتے تھے،

جب میں نے اپنی وکالت شروع کی تب ایس ایم ظفر ایک چمکتے ستارے کی طرح تھے،میں اپنے شاگردوں کو کہتا تھا اگر تمہیں مجھ جیسا بننا ہے تو ایس ایم ظفر جیسے بنو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں معروف قانون دان ایس ایم ظفرکی کتاب ”ہسٹری  آف پاکستان ری انٹرپریٹڈ“کی تقریب رونمائی میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں قائمقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مامون رشید شیخ،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار علی ظفر، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ، سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد،سابقہ سیکرٹری خارجہ شمشاداحمد خانسمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تاریخ کی خوبصورتی یہ ہے کہ اسے اپنے انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے،جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں تاریخ بن نہیں رہی بلکہ حقائق اجاگرہورہے ہیں،تاریخ دان ہی ہمارے موجودہ دور کے بارے میں بتائیں گے،میرا عہدہ موجودہ صورتحال پر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ہمارے معاشرے میں بہترین وکلاء موجود ہیں،مگرتاریخ دان بتائیں گے کہ آج کے وکلاء بہترین دلائل دیتے تھے،ان کاانداز بیاں اچھا تھایا وہ ہاتھ سے دلائل دینا جانتے تھے۔اپنے رویوں کو تبدیل کئے بغیر بہتری نہیں لائی جاسکتی،بہتری لانے کیلئے ادارے، رویے اورسوچ کو ایک پیج پرلانا ہوگا،اسی فارمولے کے تحت پاکستانی عدلیہ نے مقدمات نمٹانے کا ریکارڈ قائم کیا۔

خصوصی فوجداری ٹرائل عدالتوں نے 137دنوں میں 36000 ٹرائل نمٹادئیے گئے،نئے قوانین، اضافی اخراجات، موجودہ انفراسٹرکچر کے ساتھ ہی اہداف مکمل کرنا خوش آئند ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کتاب میں پاکستان کی تاریخ کا جامع احاطہ کیا گیا ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے میرا خیال تھا کہ مصنف نے حالیہ حالات کو کیے قلمبند کیا ہو گا۔ہمارے ملک میں ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جہاں سیکنڈ ایئر کا طالب علم فرسٹ ایئر کے طالب علم کو پڑھا رہا ہے، جب میں نے اپنی وکالت شروع کی اس وقت ایس ایم ظفر ایک چمکتے ستارے کی طرح تھے۔ میں اپنے شاگردوں کو کہتا تھا اگر تمہیں مجھ جیسا بننا ہے تو ایس ایم ظفر جیسے بنو۔ 99 فیصد لوگوں نے ہمارے فیصلے پڑھے ہی نہیں ہوتے کیونکہ انہیں قانون کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔

ججز کے فیصلوں پر وہ لوگ تبصرہ کرتے ہیں جنہیں قانون کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہم کبھی امید نہیں چھوڑ سکتے، یہی ہمارا ملک ہے، ہمارا مسکن ہے اور ہم نے یہیں رہنا ہے اس لیے ہم نے حقیقت پسند بننا ہے اور آنکھیں بند نہیں کرنی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس سسٹم میں رہتے ہوئے ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں، جج محنت کر کے ایمانداری سے فیصلے دیتے ہیں، مثبت سوچ کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا ہو گا۔انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ ایس ایم ظفر اور میرے سسر آپس میں دوست تھے،میرے سسر ہمیشہ مجھ سے ایس ایم ظفر کے بارے میں پوچھتے تھے۔ایس ایم ظفر صاحب نے مجھ سے اس کتاب کے بارے میں میرے نظریات پوچھے،مجھے اس کتاب کے بارے بہت کچھ لکھنا تھا لیکن کام کی زیادتی کی وجہ سے نہیں لکھ سکا۔ہم پاکستان کی مختلف تواریخ پڑھتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس مختلف کتابیں ہیں،اس کتاب کے پہلے حصے میں تمام حقائق بیان ہیں۔تقریب سے دیگر نے بھی خطاب کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…