جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی اکثریت عوامی خدمت نہیں کرتی، اہم کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے پختونخوا حکومت کی کلاس لے لی

datetime 13  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(سی پی پی)سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی اکثریت عوامی خدمت نہیں کرتی اور ملک کے اندر افسر شاہی نہیں چلنے دیں گے۔سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا کے محکمہ نکاسی آب کے ملازم پرویز خان کے کیس کی سماعت ہوئی۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے بتایا کہ پرویز خان نے جعلی ڈگری کی بنیاد پر نوکری کی، دو ڈومیسائل رکھے اور دو مختلف سرکاری محکموں سے بیک وقت تنخواہ لی، اس کے ساتھ ساتھ امریکی کمپنی میں بھی ملازمت اختیار کی اور تنخواہ لیتا رہا۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ شخص تو تین محکموں سے بیک وقت تنخواہ لے رہا تھا، خیبرپختونخوا میں بہت سے لوگ چار چار محکموں سے بھی تنخواہ لے رہے ہیں، یہ کیا حکومت ہے آپ کی۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ پہلے ایسے افسران تھے جو دل سے پبلک سروس دیتے تھے، آج جو لوگ عہدوں پر بیٹھے ہیں ان میں اکثریت لوگوں کو پبلک سروس نہیں دیتی، لوگوں کی خدمت کرنے والے افسران کہاں چلے گئے، اس ملک میں سول سروس کو کیا ہوگیا ہے۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ میں ریلوے کے نچلے درجے کے ملازمین کی نوکری پر بحالی کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے ریلوے کے گریڈ 5 کے تین مزدوروں کو بحال کرتے ہوئے فیڈرل سروس ٹریبیونل کے فیصلے کو برقرار رکھا اور محکمہ ریلوے کی درخواست خارج کردی۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ملک کے اندر قانون چلتا ہے، افسر شاہی نہیں چلنے دیں گے، یہ کوئی کھیل کود نہیں، قانون کے تحت آپ کو کام کرنا ہے، لوگوں کی 15، 15 سال کی نوکریاں ہیں ان کو کیسے اٹھا کر باہر پھینک سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…