منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

غیرملکی کمپنیوں نے جولائی میں 138.2 ملین ڈالر منافع اور ڈیوڈنڈز اپنے ممالک بھیجے : سٹیٹ بینک

datetime 4  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان میں کام کرنے والی غیرملکی کمپنیوں نے رواں مالی سال 2019-20ء کے پہلے ماہ جولائی کے دوران 138.2 ملین ڈالر کے منافع جات اور ڈیوڈنڈز اپنے ممالک کو بھیجے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ مالی سال میں جولائی 2018ء کے دوران غیرملکی کمپنیوں کی جانب سے 136.7 ملین ڈالر کے

منافع جات وغیرہ کی دوسرے ممالک کو منتقلی کی گئی تھی۔اس طرح جولائی 2018ء کے مقابلہ میں جولائی 2019ء کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والی غیرملکی کمپنیوں کی جانب سے 1.5 ملین ڈالر کے زائد منافع جات اور ڈیوڈنڈز کی اپنے اپنے ممالک کو منتقلی کی گئی ہے۔ ایس بی پی کے مطابق جولائی 2019ء کے دوران بیرون ملک منتقل کئے گئے منافع جات کے مقابلہ میں پاکستان میں کی جانے والی براہ راست غیرمللی سرمایہ کاری کا حجم کم رہا ہے اور اس دوران غیرملکی سرمایہ کاروں نے ملک میں 73.4 ملین ڈالر کی ایف ڈی آئی کی ہے جبکہ جولائی 2018ء کے دوران ملک میں کی جانے والی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم 179 ملین ڈارل رہا تھا۔اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ جب ملٹی نیشنل کمپنیوں کی آمدنی بہتر ہوتی ہے تو یقیناً ایف ڈی آئی پر حاصل ہونے والے منافع جات کی منتقلی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منافع جات اور ڈیوڈنڈز کی منتقلی میں اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بعض مشکلات کے باوجود قومی معیشت میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ سٹیٹ بینک کے مطابق جولائی 2019ءکے دوران تیل و گیس کے شعبہ سے حاصل ہونے والے 29.8 ملین ڈالر، ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے 28.1 ملین ڈالر اور فنانشل سیکٹر سے حاصل ہونے والے 27 ملین ڈالرز کے منافع جات اور ڈیوڈنڈز کی منتقلی کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…