ایک تازہ ریسرچ کے مطابق اگر اسرائیل اور فلسطینی امن کی راہ اپناتے ہیں تو انہیں اربوں ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں۔ دوسری صورت میں اِنہیں انتہائی بڑے اقتصادی نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔امریکا کی غیر منافع بخش ریسرچ آرگنائزیشن رینڈ کارپوریشن نے اسرائیل اور فلسطین میں امن یا مسلح تشدد کی مناسبت سے ایک تحقیقی پراجیکٹ کو مکمل کر کے اُس کے نتائج جاری کیے ہیں۔ اِس پراجیکٹ کے لیے دو سو کے قریب امریکی اہلکاروں سمیت خطے کے اہم افراد کے انٹرویوز کے حصول کا سلسلہ گزشتہ دو برسوں تک جاری رکھا گیا۔ اِس رپورٹ کے کئی اہم نکات ہیں لیکن مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اگر امن کے راستے کا انتخاب کیا جاتا ہے تو اسرائیل اور فلسطینیوں کو اربوں ڈالر کی امداد مل سکتی ہے اور اگر وہ مسلح تشدد کی راہ کا انتخاب کرتے ہیں تو اِن دونوں اقوام کو ناقابلِ تلافی اقتصادی نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ریسرچ کے مطابق امن قائم کرنے کی صورت میں اگلی ایک دہائی میں اسرائیل کو عالمی برادری سے 120 ارب ڈالر کا فائدہ ممکن ہے اور اِسی طرح فلسطینیوں کو 50 ارب ڈالر حاصل ہو سکتے ہیں۔ یہ اُن کی سالانہ فی کس آمدنی میں 36 فیصد کے اضافے کا سبب بن سکے گا۔ دوسری صورت میں اگر امن کا قیام ممکن نہیں ہوتا اور تشدد کی راہ اپنائی جاتی ہے تو اسرائیلی اقتصادیات کو تقریباً 250 بلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اسی طرح فلسطینیوں کے لیے بھی نقصان کا اندازہ بہت زیادہ ہے اور اُن کی فی کس آمدنی میں 46 فیصد کی کمی واقع ہو گی۔رینڈ کارپوریشن نے نتائج مرتب کرتے ہوئے واضح کیا کہ امن کی راہ اپنانے کے اقتصادی فوائد بے پناہ ہیں۔ ریسرچ ادارے کا یہ کہنا ہے کہ اُسے یقین ہے کہ اِس ریسرچ کے نتائج سے اسرائیلی اور فلسطینی قائدین فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ رپورٹ کے شریک سربراہ سی راس انتھونی کا کہنا ہے کہ اِس ریسرچ سے حاصل ہونے والے رحجانات اور نتائج موجودہ جنگی حالات کو تناظر میں انٹرنیشنل کمیونٹی کے لیے انتہائی مفید ہو سکتے ہیں۔ ریسرچ کے مطابق فوری طور پر اسرائیل کو موجودہ حالات کے تسلسل کے باعث 80 بلین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے اور فلسطینی تقریباً 12 ارب ڈالر سے محروم ہو سکتے ہیں۔
رینڈ کارپوریشن نے اسرائیل اور فلسطین اِنیشیئیٹیو (Israeli-Palestinian Initiative) نامی رپورٹ کو پانچ مختلف پہلووں سے مرتب کیا ہے۔ اِس میں دو ریاستی حل، منظم انداز میں یک طرفہ انخلا، غیر منظم انداز میں یک طرفہ انخلا، غیر مسلح مزاحمتی عمل اور پرتششد تحریک کا آغاز جیسے پہلو شامل ہیں۔ رینڈ کارپوریشن کے محققین نے ریسرچ مکمل کرنے کے بعد اب اسرائیل اور فلسطینی علاقے کے دورے کو پلان کر رکھا ہے۔ اِس دورے میں وہ اپنی ریسرچ کو اسرائیلی حکومت اور اہم سیاستدانوں کے سامنے پیش کریں گے تا کہ وہ امن کے حصول کی راہ اپنانے کی صورت میں مالی منفعت کا احساس کر سکیں۔ اسی طرح وہ فلسطینی لیڈرشپ سے بھی ملاقاتیں کر کے رپورٹ پر تبادلہ خیال کریں گے
امریکی ادارے نے فلسطین اوراسرائیل کے درمیان امن کوڈالروں سے مشروط کردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
ایران امریکا مذاکرات کا اعلان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی



















































