اتوار‬‮ ، 01 مارچ‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے سفاکیت اور بے حسی کی انتہا کردی، قتل عام کے ثبوت دنیا سے چھپانے کیلئے کیاکام شروع کردیا؟ تحقیقی رپورٹ میں ہولناک انکشافات

datetime 27  اگست‬‮  2019 |

سری نگر( آن لائن ) مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار نے سفاکیت اور بے حسی کی انتہا کرتے ہوئے گزشتہ 23 دنوں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران شہید ہونے والے کشمیریوں کے ڈیٹھ سرٹیفکیٹس جاری کرنے سے انکار کردیا تاکہ کشمیر میں ہونے والے قتل عام کے ثبوت دنیا کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے میں شائع کی گئی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر ایک تحقیقی رپورٹ میں ہولناک انکشافات کیے گئے ہیں، قابض بھارتی فوج نے وادی کے تمام اسپتالوں کی انتظامیہ کو مظاہروں کے دوران شہید ہونے والوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری نہ کرنے اور زخمیوں کو طبی امداد دے کر فورا رخصت دینے کی سخت ہدایات دی ہیں۔کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے غیر آئینی فیصلے کے بعد کشمیری کرفیو توڑ کر سڑکوں پر احتجاج کے لیے نکل آئے ہیں، قابض بھارتی فوج نے نہتے شہریوں پر براہ راست برسائیں جس کے نتیجے میں درجنوں شہادتیں ہوئیں اور متعدد زخمی ہوگئے۔ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اہل خانہ اپنے پیاروں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے لیے اسپتال کے چکر لگا ر ہے ہیں لیکن مودی سرکار نے شہید ہونے والوں مظاہرین کے ڈیتھ سرٹیفکیٹس جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے اہل خانہ کو دھتکار دیا ہے۔انڈیپینڈنٹ کے لیے رپورٹ مرتب کرنے والے صحافی سے گفتگو میں ایک شہید کے اہل خانہ نے کہا کہ مودی سرکار کا یہ اقدام دنیا کے سامنے کشمیریوں کے نسل کشی کے واقعات پر پردہ ڈالنے کے لیے ہے تاکہ مودی سرکار کے کشمیر میں طاقت کے استعمال اور کشمیریوں کی نسل کشی کی سند دنیا کے ہاتھ نہ لگ جائے اور مودی سرکار کا مکروہ چہرہ بے نقاب نہ ہوجائے۔

عالمی خبر رساں ادارے سے منسلک صحافی نے درجن سے زائد اسپتالوں کا بھی دورہ کیا، اسپتال انتظامیہ نے صحافی کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے زخمی مظاہرین کو طبی امداد کے بعد فوری طور پر اسپتال سے رخصت دینے، زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کا ریکارڈ نہ رکھنے اور جھڑپوں میں شہید ہونے والوں کو ڈیتھ سرٹیفیکٹس جاری نہ کرنے کی زبانی ہدایات دی ہیں۔

صحافی نے سری نگر میں 17 اگست کو شہید ہونے والے 55 سالہ کشمیری ایوب خان کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی جنہوں نے صحافی کو بتایا کہ مظاہرے کے دوران زخمی ہونے والے نے ایوب خان نے اسپتال پہنچتے ہی جام شہادت نوش کرلیا تاہم اسپتال انتظامیہ نے ڈیتھ سرٹیفیکٹ جاری کرنے سے انکار کردیا۔واضح رہے کہ 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں تاحال کرفیو نافذ ہے، نیٹ، موبائل، ٹیلی فون اور ٹی وی سروس بند ہونے کے باعث وادی کا دنیا بھر سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے تاہم بہادر کشمیری کسی نہ کسی طرح احتجاج کے لیے نکل کر دنیا کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



امانت خان شیرازی


بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…