جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

’ابا جی نیچے اترو‘

datetime 7  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)راولپنڈی سے اسلام آباد کے درمیان اربوں روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والی میٹرو بس سروس کئی ماہ کی تاخیر کے بعد شروع ہوئی تو میٹرو سٹیشن پر لگی لمبی قطاریں دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جڑواں شہروں کے باسی اس کے کتنے منتظر تھے؟اس پر پہلی مرتبہ سفر کر کے محسوس ہوا کہ ابتدا میں محدود انداز میں شروع کی گئی سروس کافی کم ہے اور حکام نے شاید ابتدائی دنوں میں ہم جیسے ’میٹرو کا محض مزہ‘ لوٹنے والوں کی بڑی تعداد کو مدنظر رکھا ہی نہیں۔پنڈی کے میٹرو سٹیشنوں پر لمبی لمبی قطاریں بھی مسافروں کو پریشان کرنے کے لیے کافی تھیں۔ پنڈی کے پہلے سٹیشن یعنی صدر میں تو قطار اتنی لمبی تھی کہ انتظامیہ نے قطار کو کئی چکر دیے۔اسلام آباد سے پنڈی جاتے ہوئے تو نشست بھی ملی لیکن راولپنڈی سے واپسی کافی مہنگی پڑی۔ پچاس منٹ کا سفر کھڑے ہو کر اور وہ بھی ایک دوسری سے قریباً بغل گیر ہو کر ہی کیا۔ یہ تو بھلا ہو نئی بس کے نئے ایئرکنڈیشنر کا جو حالت زیادہ بگڑی نہیں۔پنڈی کے میٹرو

22

سٹیشنوں پر لمبی لمبی قطاریں بھی مسافروں کو پریشان کرنے کے لیے کافی تھیںہر سٹیشن پر ایک وقت میں دو سے زیادہ بسیں روک کر مسافر اتارنے کا انتظام ہے لیکن فی الحال ایک بس ٹرمینل ہی استعمال میں لایا جا رہا ہے اور پیچھے سے آنے والی بس کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔اوورٹیکنگ شاید منع ہے تو بسیں ایک دوسرے کے پیچھے ہی رہتی ہیں۔بس میں سفر کے دوران مسافروں کے ہجوم میں سٹیشن کے آغاز میں لگا واحد نام کا پڑھنے میں کافی دقت ہوئی۔ بس میں ایک باریک سی آواز میں ایک خاتون اگلے سٹیشن کی اطلاع دے تو رہی تھیں لیکن یہ اعلان کے بجائے کانوں میں ہوتی کھسرپھسر زیادہ محسوس ہوتی تھی۔لندن اور دیگر ممالک کی طرز پر ہونا یہ چاہیے کہ سٹیشن کے علاقے میں اڈے کی دونوں جانب واضح انداز میں بڑے بورڈز پر سٹیشن کا نام لکھا ہو تاکہ ہر مسافر باآسانی پڑھ سکے۔ایک اور مسئلہ ایک ہی خاندان کی عورتوں اور مردوں کو بس کے الگ الگ حصوں تک محدود رکھنا بھی تھا۔ بس کا اگلا حصہ خواتین جبکہ پچھلا حصہ مردوں کے لیے مختص تھا۔بس میں سفر کے دوران مسافروں کے ہجوم میں سٹیشن کے آغاز میں لگا واحد نام کا پڑھنے میں کافی دقت ہوئی سفر کے دوران کئی مسافر خاندانوں کی خواتین کو بس میں جگہ ملی تو وہ چڑھ گئیں لیکن ان کے مردوں کو جگہ نہ ملی تو وہ پیچھے رہ گئے۔سٹیشن پر اترتے وقت رش اتنا تھا کہ خواتین کو بس کے پچھلے حصے میں موجود اپنے خاندان کے مرد دکھائی دینا مشکل تھا تو ان سے بات کرنا تو ناممکنات میں شامل۔ایسے میں اترتی عورتیں صدا ہی لگا سکتی تھی: ’ابا جی اترو‘رش میں ٹکٹ لینا بھی جان جوکھوں کا کام ہے۔ لمبی قطاریں دیکھ کر واپسی پر صدر سے ٹیکسی پکڑی اس امید سے کہ اگلے چند سٹیشنوں پر تعداد کم ہوگی لیکن کمیٹی چوک تک حال برا ہی تھا۔ لہذا وہیں اتر کر ایک قطار میں خاموشی سے لگ گئے۔ہر سٹیشن پر محض تین کاو¿نٹر اور ایک خودکار مشین نصب کی گئی ہے جو کہ اتنی بڑی تعداد میں سفر کرنے والوں کے لیے انتہائی کم ہے۔ٹکٹ کاو¿نٹر پر سیاہ نقاب پہنے عملے کی خاتون ایک مشین پر پلاسٹک کے ٹوکن رکھ کر چیک کرتی رہی لیکن معلوم نہیں ان میں کیا مسئلہ تھا کہ مسافروں کو نہیں دی رہی تھی۔کوئی تین درجن ٹوکنوں کے بعد چند درست ٹوکن آئے تو انھوں نے ہمیں تو دے دیے لیکن ساتھ میں سفر کرنے والے خاندان کے دیگر لوگوں کا چہرہ دیکھے بغیر ٹکٹ نہ دینے پر مصر رہیں۔

21
130 روپے کے عوض آپ میٹرو کا مستقل کارڈ بھی بنا سکتے ہیں جسے اپنی مرضی کی رقم جمع کی جا سکتی ہے۔
چاہیے تو یہ تھا کہ مستقل کارڈ کو زیادہ فروغ دیا جاتا اور ابتدا میں مفت دیے جاتے تاکہ لوگ قطاروں کی کوفت سے بچ سکتے۔ہر سٹیشن پر محض تین کاو¿نٹر اور ایک خودکار مشین نصب کی گئی ہے جو کہ اتنی بڑی تعداد میں سفر کرنے والوں کے لیے انتہائی کم ہےمیٹرو سٹیشنوں پر واش رومز کی کمی محسوس ہوئی جو شاید کہیں دور بنائے گئے ہیں لیکن بند بتائے گئے۔ابھی سروس نئی ہے تو صفائی بھی اچھی ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزرے گا، میٹرو انتظامیہ کی مشکلات یقیناً بڑھتی جائیں گی۔خامیاں اور کمزوریاں اپنی جگہ لیکن تعلیم و صحت کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کے ایسے منصوبے ضروری ہیں اور اب حکومت کو اسے جڑوں شہروں کے دیگر اہم مصروف علاقوں تک لے جانے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…