پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

مقبوضہ کشمیر میں پانچویں روز بھی کرفیو بدستور نافذ، سیاسی رہنما ،کارکن گرفتار

datetime 9  اگست‬‮  2019 |

سرینگر(این این آئی)مقبوضہ کشمیر جمعہ کو پانچویں روز بھی کرفیو اور دیگر پابندیاں بدستور نافذ رہیں جبکہ بھارت نے علاقے میں مواصلات کے تمام ذرائع معطل کر رکھے ہیں جس کی وجہ سے مقبوضہ علاقے کا بیرونی دنیا سے رابطہ بالکل معطل ہے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارتی حکومت نے آئین کی دفعہ 370کی معطلی کے اعلان سے قبل مقبوضہ علاقے میں کرفیواور دیگر پابندیاں نافذ کر دی تھیں۔

بھارتی پارلیمنٹ نے پانچ اگست کو دفعہ 370کی منسوخی کی قرار دا د پاس کی جس کے تحت جموں کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ قابض انتظامیہ نے بھارتی حکومت کے اس غیر قانونی اور مذموم اقدام کیخلاف کشمیریوںکے احتجاج کو روکنے کیلئے مقبوضہ علاقے کے اطراف و اکناف میں ہزاروں بھارتی فوجی اور پیرا ملٹری اہلکار تعینات کر رکھے ہیں ۔ بھارتی فوجیوں نے سرینگر میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں اور خار دار تاریں بچھا کر گاڑیوں اور راہگیروں کی نقل و حرکت ناممکن بنا رکھی ہے۔ مقبوضہ واد ی کی تمام سڑکیں اس وقت سنسان منظر پیش کر رہی ہیںجبکہ جموں ، کٹھوعہ، سامبا، پونچھ ، ڈوڈہ ، کشتواڑ، ادھمپور اور دیگر علاقوں میں بھی یہی صورتحال ہے ۔ قابض انتظامیہ نے احتجاجی مظاہروں کے بعد لداخ خطے کے کرگل ضلع میںبھی دفعہ 144نافذ کر دی ہے۔ مقبوضہ علاقے میںگزشتہ پانچ روز سے ٹیلیفون ، انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ کے دیگر تمام ذرائع بھی معطل ہیں جس کے باعث م علاقے کاتمام بیرونی دنیا سے رابطہ بالکل معطل ہے جبکہ انٹرنیٹ کی بندش کے باعث مقبوضہ علاقے سے شائع ہونے والے والے اخبارات چار اگست سے اپ ڈیٹ نہیں ہو سکے۔ سخت پابندیوں کے باعث بیشتراخبارات شائع بھی نہیں ہو رہے۔ سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق سمیت تقریباً تمام حریت رہنما گھروں اورجیلوں میں نظر بند ہیں ۔پچیس گرفتار حریت کارکنوں کو سرینگر سے آگرہ سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا ۔ انتظامیہ نے تمام تعلیمی ادارے بھی بند کر رکھے ہیں۔دفعہ 370کو معطل کیے جانے کے بعد سے اب تک 560سے زائد سیاسی رہنما اور کارکنوں گرفتار کر لیے گئے ہیں ۔ گرفتار کیے جانے والوں میں بھارت نواز سیاست دان فاروق عبداللہ ، عمر عبداللہ ، محبوبہ مفتی اور سجاد لون وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ مقبوضہ علاقے میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت بڑھ رہی ہے اور لوگوں کو دودھ اور ادویات وغیرہ دستیاب نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…