جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

عمران ٹرمپ ملاقات سے پہلے پاکستان کے اندر کون سے واقعات پیش آ رہے ہیں؟ کلبھوشن یادیو کے کیس کا فیصلہ ہمارے لیے بہت زیادہ خوش آئند نہیں، یہ سارے واقعات‘ اتفاقات محض اتفاق‘ محض واقعات ہیں یا پھر یہ وہ تحفے ہیں جو عمران خان دنیا کے بادشاہ کو پیش کریں گے، جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 17  جولائی  2019 |

پرانی کہاوت ہے‘ آپ اگر بادشاہ کے پاس جانا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو خالی ہاتھ نہیں جانا چاہیے‘ ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت پوری دنیا کے بادشاہ ہیں اور ہم اس بادشاہ کے فریادی ہیں‘ ہمارے وزیراعظم 21جولائی کو بادشاہ سے ملنے جا رہے ہیں‘ اس دورے اور اس ملاقات سے پہلے پاکستان کے اندر بے شمار دل چسپ واقعات پیش آ رہے ہیں مثلاً ہم نے کل چار ماہ اور اٹھارہ دن کے تعطل کے بعد اپنی ائیرسپیس کھول دی‘

مثلاً آج سی ٹی ڈی نے حافظ سعید صاحب کو گوجرانوالہ میں گرفتار کر لیا‘ یہ ضمانت پر تھے‘ آج ان کی ضمانت ختم ہوئی‘ یہ نئی ضمانت کرانے جا رہے تھے اور راستے میں گرفتار کر لیے گئے اور آج عالمی عدالت نے کلبھوشن یادیو کے کیس کا فیصلہ بھی سنا دیا‘ یہ فیصلہ ہمارے لیے بہت زیادہ خوش آئند نہیں‘ ہم نے یادیو کو سزائے موت دی تھی‘ عالمی عدالت نے اس فیصلے پر نظر ثانی کا حکم دے دیا‘ ہم نے اسے قونصل رسائی نہیں دی تھی‘ عالمی عدالت نے یادیو کو قونصل رسائی کا حکم دے دیا‘ میری فیلنگز ہیں قونصل رسانی کا کام بھی عمران خان کی صدر ٹرمپ کے ساتھ میٹنگ کے دوران ہو جائے گا‘ ادھر عمران خان صدر ٹرمپ سے مل رہے ہوں گے اور ادھر کلبھوشن یادیو انڈین قونصلر سے ملاقات کر رہا ہو گا‘ کیا یہ سارے واقعات‘ کیا یہ سارے اتفاقات محض اتفاق‘ محض واقعات ہیں یا پھر یہ وہ تحفہ ہیں جو ہمارے وزیراعظم ہماری طرف سے دنیا کے بادشاہ کو پیش کریں گے‘مجھے یہ واقعات تحفہ محسوس ہو رہے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ نے بھی حافظ سعید کی گرفتاری پر ٹویٹ کرکے اسے اپنے پریشر کا نتیجہ ڈکلیئر کر دیا، حافظ سعید کتنے اہم ہیں‘ صدر ٹرمپ ان کی گرفتاری پر ٹویٹ کر رہے ہیں‘ ہم ان تحفوں کے ذریعے امریکا سے کیا حاصل کریں گے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…