منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

آئی پی ایل فکسنگ میں بے نقاب ہوئے بڑے بڑے نام

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

نئی دہلی۔۔۔۔بھارت کی سپریم کورٹ نے آئی پی ایل کے میچوں میں سپاٹ فکسنگ اور سٹے بازی کے الزامات کی سماعت کے دوران جمعے کو کئی ایسے بڑے ناموں کا انکشاف کیا جن کے خلاف ان الزامات کے سلسلے میں تفتیش کی گئی ہے۔یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان لوگوں پر کوئی جرم ثابت ہوا بھی ہے یا نہیں۔
جن افراد کے ناموں کا انکشاف کیا گیا ان میں آئی سی سی کے چیئرمین این سری نواسن، ان کے داماد گروناتھ مئی اپن، آئی پی ایل کے چیف آپریٹنگ افسر سندر رمن اور راجستھان رائلز کے مالک راج کندرا شامل ہیں۔سری نواسن کی کمپنی انڈیا سیمنٹس چنئی سوپر کنگز کی مالک ہے۔آئی پی ایل میں سٹے بازی اور سپاٹ فکسنگ کے الزامات کی تفتیش مدگل کمیٹی نے کی تھی اور عدالت نے کمیٹی کی فراہم کردہ فہرست میں سے ان ناموں کا انکشاف کیا۔سپریم کورٹ نے غیر دانستہ طور پر تین کھلاڑیوں کے نام بھی لیے لیکن بعد میں میڈیا کو ہدایت کی گئی کہ یہ نام ظاہر نہ کیے جائیں۔ ابھی صرف اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف تفتیش کی گئی ہے۔عدالت نے جن تین کھلاڑیوں کے نام لیے تھے، وہ کافی دیر تک ٹی وی چینلوں پر چلتے رہے کیونکہ صحافی خبر بریک کرنے کی جلدی میں سماعت کے دوران ہی عدالت سے باہر نکل آئے تھے۔راج کندرا فلم سٹار شلپا شیٹی کے شوہر ہیں اور مرکزی تفتیشی بیورو نے بھی ان سے الزامات کے سلسلے میں تفتیش کی تھی۔سٹے بازی کے الزامات سامنے آنے کے بعد سری نواسن کو بی سی سی آئی کے سربراہ کے عہدے سے عارضی طور پر ہٹنا پڑا تھا اور اطلاعات کے مطابق وہ دوبارہ واپس آنے کی کوشش کر رہے تھے۔اس کیس میں درخواست گزار اور بہار کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ آدتیہ ورما کے مطابق فہرست میں چھ اور نام شامل ہیں۔اس کیس کی اگلی سماعت 24 نومبر کو ہوگی۔آئی پی ایل میں سپاٹ فکسنگ کے الزامات گذشتہ برس سامنے آئے تھے اور اس سلسلے میں فاسٹ بالر سری سنتھ سمیت راجستھان رائلز کے تین کھلاڑیوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…