بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے خود کش دھماکوں میں ملوث عمر قید کے ملزم کو بری کر دیا

datetime 11  جولائی  2019 |

اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ نے خود کش دھماکوں میں ملوث عمر قید کے ملزم ندیم حسین کو بری کر دیا۔ سپریم کورٹ نے ملزم کو عدم شواہد پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دیا،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دورانِ سماعت کہا کہ افسوس کی بات ہے نچلی عدالتوں نے چیزیں کیوں نہیں دیکھیں۔اتنا بڑا دھماکہ ہوا اس لیے سزا دی۔ہائیکورٹ اتنی بڑی عدالت ہے اس نے بھی

شواہد کو نہیں دیکھا۔وکیل نے کہا کہ 2008 میں پاکستانی نیول وار کالج لاہور کے باہر دو خودکش دھماکے ہوئے۔دھماکے میں تین افراد جاں بحق ہوئے تھے جب کہ 18 افراد زخمی ہوئے تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اتنا بڑا واقعہ ہو گیا، دو دھماکے ہو گئے لیکن کوئی ثبوت ہی نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ثبوت صرف دھماکہ ہی ہے۔چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ آپکے پاس ملزم کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں۔آپ کہہ رہے ہیں کہ ملزم کی دکان تھی جہاں دو نامعلوم افراد کو جیکٹس دی گئیں۔ساری شہادتیں مان بھی لیں تو لگتا ہے کہ ملزم کی دکان استعمال ہوئی جب وہ موجود نہیں تھا۔ایسا لگ رہا ہے کہ ملزم کو اس کیس میں گھسیٹا گیا۔جس کے بعد سپریم کورٹ نے خود کش دھماکوں میں ملوث عمر قید کے ملزم ندیم حسین کو بری کر دیا۔واضح رہے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک کیس کے دوران ریمارکس دئیے تھے کہ کہ اگر انصاف چاہئیے تو سچ بولا کریں۔جھوٹی شہادت پر ملزمان کے بری ہونے کا الزام عدلیہ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اگر انصاف چاہئیے تو سچ بولیں، اگر آپ میں سچ بولنے کی ہمت نہیں تو انصاف بھی نہ مانگیں۔۔ گواہ اللہ کی خاطر بنا جاتا ہے، اللہ کا حکم ہے کہ اپنے والدین، بھائی، عزیز کے خلاف سچی گواہی دو۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جھوٹے گواہوں کے خلاف کارروائیاں شروع ہو چکی ہیں، کوشش کر رہے ہیں کہ عدلیہ میں سچ کو واپس لائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…