اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

کیا نور الحسن کی موت ڈاکٹرز کی غفلت کی وجہ سے ہوئی ؟ اسپتال انتظامیہ شدید تنقید کی زد میں آگئی

datetime 8  جولائی  2019 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)شالیمار اسپتال میں زیرعلاج 330کلو وزنی نور الحسن آج صبح انتقال کر گئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق نور الحسن کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ڈاکٹر معاذ اور ان کے عملے کو آڑھے ہاتھوں لیتے خوب تنقید کا نشانہ بنایا ہے صارفین نے لکھا کہ نور الحسن کی موت ڈاکٹر اور اسپتال عملے کی غفلت کی وجہ سے ہوئی یا پھر وجہ کوئی اور ہے ۔

سوشل میڈیا صارفین نے ڈاکٹرز اور عملے کی لی گئی تصاویر شیئر کرتے کہا ہے کہ نور الحسن کے آپریشن کے دوران بھی غفلت برتی گئیآپریشن تھیٹر میں ڈاکٹر معاذ اور ان کا عملہ سیلفیاں اور ویڈیوز بنانے میں مصروف زیادہ دکھائی دیا جو انتہائی افسوسناک ہے ۔کچھ صارفین نے نورالحسن کی موت کا ذمہ دار ڈاکٹر ز کو ٹھہرایا تو کچھ کا کہنا تھاکہ آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹرز اور عملے کو آپریشن پر فوکس کرنا چاہیے تھا نہ کہ سیلفیوں اور ویڈیوز پر ۔ دریں اثنا نور حسن کے انتقال پر ان کے علاج کرنے والے ڈاکٹر معاذ نے انتقال کی وجہ بیان کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر معاذ نے بتایا کہ اسپتال میں ڈیلیوری کے دوران ایک خاتون انتقال کر گئی تھی جس کے لواحقین نے اشتعال میں آکر چیزو ں کی توڑ پھوڑ شروع کر دی تھی جس پر نورالحسن سمیت 2افراد انتقال کر گئے ۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ توڑ پھوڑ اور شوروغل کے دوران نور الحسن کو سانس کی تکلیف کی وجہ سے ہارٹ اٹیک ہوا جس کی وجہ سے ان کی موت ہوئی ۔ قبل ازیں موٹاپےکا شکار نور حسن انتقال کر گئے ہیں۔ اسپتال ذرائع نے بتایا کہ نور حسن 3 ہفتے سے لاہور کے نجی اسپتال میں زیر علاج چل رہا تھا ۔ نور حسن کا تقریباًدن پہلے آپریشن ہوا تھا ۔ ڈاکٹروں نے نور حسن کا آپریشن کرکے اس کے معدے کا سائز چھوٹا کردیا تھااور آپریشن کو کامیاب قرار دیا تھا۔آپریشن کے بعد نورحسن کو آئی سی یو میں رکھا گیا تھا۔ وہ آج اچانک انتقال کرگئے۔واضح رہے کہ مرحوم نور حسن کو گھر کی دیوار توڑ کر ائیر ایمبولینس کے ذریعے علاج کیلئے لاہور لایا گیا تھا ۔ نورحسن کا وزن 330 کلو تھا اور وہ چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…