اسلام آباد(آن لائن) دہرے قتل میں ملوث ناصر بٹ کی برطانیہ ہوم آفس تک رسائی پر برطانوی حکومت نے ازسرنوتحقیقات کرنے کا فیصلہ کرلیا،تفتیش شروع کرنے کیلئے ابتدائی شواہد اکٹھے کرلئے گئے۔ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہرے قتل میں ملوث ناصر بٹ نامی شخص کو شہبازشریف کی ایماء پر ہوم آفس لایا گیا
جہاں ان کا نام مہمانوں کی لسٹ میں بھی شامل نہیں تھا اور نہ ہی سکیورٹی کلیرنس ہوئی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ ناصر بٹ نامی شخص کو عدالت سے سزا بھی ہو چکی تھی اس کے باوجود وہ برطانیہ میں انتہائی حساس ادارے میں سکیوٹی کوچکما دے کر شہبازشریف ساتھ لے کر گئے اور برطانوی وزیراعظم تھریسامے کے ساتھ مصافحہ بھی کروایا گیا۔ذرائع کے مطابق پاکستان میں احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے حوالے سے مبینہ طور پر آڈیو ویڈیو لیک ہونے پر ایک بار پھر برطانیہ میں بھونچال آگیا کہ سیاسی پناہ لینے والا شخص جس پر قتل، اقدام قتل، زنا بدکاری جیسے سنگین نوعیت کے الزامات ہیں کیسے فعال ہوا اور انہوں نے پاکستان کی بااثرسیاسی شخصیت کا سہارا لے کر ہم آفس کا دورہ بھی اور اہم افسران سے ملاقاتیں بھی کیں اس حوالے سے برطانیہ حکومت نے ازسرنو پاکستانی حکومت سے مدد طلب کرنے کا فیصلہ کیا اور ناصر بٹ کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دہرے قتل میں ملوث ناصر بٹ کی برطانیہ ہوم آفس تک رسائی پر برطانوی حکومت نے ازسرنوتحقیقات کرنے کا فیصلہ کرلیا،تفتیش شروع کرنے کیلئے ابتدائی شواہد اکٹھے کرلئے گئے۔ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہرے قتل میں ملوث ناصر بٹ نامی شخص کو شہبازشریف کی ایماء پر ہوم آفس لایا گیا جہاں ان کا نام مہمانوں کی لسٹ میں بھی شامل نہیں تھا اور نہ ہی سکیورٹی کلیرنس ہوئی تھی۔



















































