ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان ریلوے میں بڑھتے ہوئے حادثات کی بنیادی وجہ سامنے آگئی،اعلیٰ عہدیدار نے خامیوں کی جان بوجھ کر نشاندہی نہیں کی، تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس 

datetime 6  جولائی  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان ریلوے میں بڑھتے ہوئے حادثات کی بنیادی وجہ سامنے آگئی ہے‘ جنرل منیجر ریلوے آفتاب اکبر نے ریلوے ٹریکس میں موجود خامیوں کی جان بوجھ کر نشاندہی نہیں کی‘ تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل منیجر ریلوے آفتاب اکبر وفاقی وزیر ریلوے سے تمام خامیوں کو پوشیدہ رکھتے ہیں تاکہ ہر حادثے کی ذمہ دری وفاقی وزیر پر آپڑے اور انہیں سیاسی طور پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے‘

حیدر آباد کے بعد لاہور کے قریب بھی 22 جون کو مسافر ٹرین کی چار بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔ جی ایم ریلوے نے جانتے بوجھتے نقص دور نہیں کروایا‘ صحافیوں کے سوال پوچھنے پر انہیں بھی تشدد کا نشانہ  بنا ڈالا۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں ریل کی پٹڑیوں کا بچھا ہوا جال درحقیقت اس وقت جنرل منیجر آفتاب اکبر کا وہ سازشی جال ہے جو اس نے معصوم لوگوں کی جانیں داؤ پر لگا کر وفاقی وزیر شیخ رشید کے خلاف بچھا رکھا ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق جی ایم ریلوے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید سے سیاسی عناد رکھتے ہیں اس لئے جان بوجھ کر ریلوے ٹریک کی خامیاں دور کرنے کی بجائے انہیں چھپاتے ہیں تاکہ خدانخواستہ حادثہ ہو اور اس کی ذمہ داری شیخ رشید پر پڑے اور ان کی بدنامی ا ور سبکی ہو۔ گزشتہ روز 22 جون کو لاہور ریلوے اسٹیشن سے صرف چار کلومیٹر دور ریل کی چار بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں چونکہ ابھی ریل کی رفتار تیز نہیں ہوئی تھی اس لئے جانی نقصان نہیں ہوا۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ جی ایم ریلوے کو علم تھا کہ یہ ٹریک نرم ہوچکا ہے اس لئے اس کی فوری بہتری کی ضرورت ہے لیکن جان بوجھ کر موصوف نے اس کوچھپایا اور قوم بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی۔ البتہ جب مقامی صحافیوں نے جی ایم آفتاب اکبر سے سوال کیا تو اس نے صحافیوں سے بدتمیزی شروع کردی اور اپنے ماتحت ریلوے پولیس کے اہلکاروں کے ذریعے ان پر تشدد شروع کردیا۔ مزید برآں  20 جون کو حیدر آباد اسٹیشن پر ہونے والے حادثے کا اصل ذمہ دار بھی جی ایم آفتاب اکبر کو بتایا گیا ہے۔

جناح ایکسپریس ٹرین اور ساہیوال کول سپیشل ٹرین کے درمیان ہونے والے حادثے میں ڈرائیور اور دو اسسٹنٹ ڈرائیور کی قیمتی جانیں ضائع ہوگئی تھیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریلوے ٹریک کے سگنل مؤثر اور بروقت رکھنا اور ان کی نگرانی رکھنا جی ایم آفتاب اکبر کی ذمہ داری ہے لیکن اس حادثے میں  بھی موصوف لاعلم نظر آئے جو کہ ان کی مجرمانہ غفلت شمار کی گئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ جی ایم آفتاب اکبر اپنے پیشہ وارانہ فرائض سرانجام دینے کی بجائے دیگر غیر اخلاقی مشاغل میں مصروف رہتے ہیں اور یہ کہ ریلوے میں موجود اپنے ہمنواؤں کو وفاقی وزیر شیخ رشید کے حوالے سے اپنے مزموم عزائم بارے بھی بتا چکے ہیں اس حوالے سے آفتاب اکبر کا موقف جاننے کیلئے ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا تاہم ان کے موبائل پر پیغام چھوڑا گیا اس کا بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…