جنوبی افریقہ کے قریب سمندر میں ڈوبنے والے ایک بحری جہاز سے ملنے والی اشیا کو کیپ ٹاؤن میں پہلی بار منظرِ عام پر لایا جا رہا ہے۔ یہ اشیا ایک ایسے بحری جہاز کے ملبے سے ملی ہیں جسے غلاموں کی تجارت کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو امید ہے کہ ان سے نہ صرف تاریخ پر تحقیق کرنے والے افراد کو مدد ملے گی بلکہ یہ انسانی تجارت کا شکار غلاموں کی یادگار بھی ثابت ہوں گی۔سولہویں اور انیسویں صدی کے درمیان لاکھوں افریقی باشندوں کو بحرِ اوقیانوس کے پار غلامی کے لیے لے جایا گیا اور ان میں سے بیشتر سفر کے دوران ہی مارے گئے۔جن چیزوں کو پہلی بار منگل کو کیپ ٹاؤن کے ازیکو سلیو لاج میوزیم میں نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے ان میں بیڑیوں کے ٹکڑے، لوہے کی سلاخیں اور لکڑی کی ایک چرخی شامل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ لوہے کی سلاخیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جہاز غلاموں کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتا تھا کیونکہ صرف انسانی وزن سمندر میں بحری جہاز کو متوازن رکھنے کے لیے ناکافی ہوتا تھا۔




















































