ہفتہ‬‮ ، 21 فروری‬‮ 2026 

کوئی پوچھے توکہنا قمر باجوہ آیا تھا،جیت کا کریڈٹ پاک فوج کو دیدیا گیا، سوشل میڈیا پر دلچسپ ٹویٹس

datetime 24  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) ورلڈکپ 2019 ء میں گذشتہ روز پاکستانی ٹیم نے لارڈز میں اپنا چھٹا میچ جنوبی افریقا کے خلاف کھیلا۔پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 49رنز سے شکست دی۔پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ورلڈ کپ 2019ء کے ایک ایسے مقابلے میں شکست دی جسے نہ جیتنے کی صورت میں قومی کرکٹ ٹیم کو واپسی کا ٹکٹ بھی کٹوانا پڑ سکتا تھا۔اگرچہ بھارت کے ہاتھوں قومی ٹیم کی شکست کے بعد پاکستانی عوام شدید غصے میں تھی جس کا اظہار انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی کیا۔

گذشتہ روز پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کا میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیم پہنچے۔۔آرمی چیف سمیت ڈی جی آئی ایس پی آرمیجر جنرل آصف غفور اور برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ بھی میچ دیکھنے کے لیے سٹیڈیم میں موجود تھے۔میچ کے دوران آرمی چیف کی موجودگی نے جہاں کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کیے وہیں کرکٹ شائقین بھی بہت خوش ہوئے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ سیلفیاں بھی لیں۔پاکستان کی میچ میں جیت کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے دلچسپ تبصرے کرنا بھی شروع کر دئیے ہیں۔اور کہا کہ کھلاڑیوں نے آرمی چیف کی موجودگی کی وجہ سے اچھا کھیلا۔کچھ صارفین نے تو پاکستان کی جیت کا کریڈٹ بھی پاک فوج کو دے دیا۔ایک صارف نے آرمی چیف کے لیے احترام کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ” کوئی پوچھے تو کہنا باجوہ آیا تھا”۔ایک صارف نے کچھ اس طرح سے ٹویٹ کیا۔کچھ صارفین نے پروپیگنڈا شروع کیا تو ایک صارف نے انہیں منہ توڑ جواب دیا اور کہا کہ ہمارا ٹیکس تو چھوٹی سی چیز ہے پاک افواج کے لیے جان بھی حاضر ہے۔ایک صارف نے دلچسپ ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ تو یہ جو کارکردگی تھی۔۔۔!!! اس کے پیچھے وردی تھی۔ایک صارف نے میچ ختم ہونے کے بعد کی تصویر ٹویٹ کیا جس میں آرمی چیف کرکٹ گراؤنڈ سے باہر نکل رہے ہیں اور ان کے چہرے پر خوشی واضح ہے۔ایک صارف نے آرمی چیف کی تصویر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ پاکستان کے میچ جیتنے کے پیچھے یہ وجہ ہے۔۔ واضح رہے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کرکٹ میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…