منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قطر میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹ کی کروڑوں ریال میں فروخت

datetime 14  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

دوہا۔۔۔۔خلیجی ملک قطر میں گاڑیوں کی پرکشش لائسنس نمبر پلیٹ کا جنون اِس حد تک آن پہنچا ہے کہ تازہ نیلامی میں ایک نمبر پلیٹ کروڑوں ریال میں فروخت ہوئی ہے۔ڈبل تھری ڈبل تھری ڈبل فائیو یعنی 333355 نمبر پلیٹ پر 20 کروڑ درہم یا ساڑھے پانچ کروڑ ڈالر کی بولی لگی ہے۔یہ نمبر پلیٹ ان 19 نمبروں میں شامل تھی جن کی نیلامی کا اعلان قطری وزارتِ داخلہ نے پانچ دن پہلے کیا تھا۔
سب کی سب نمبر پلیٹیں تین سے شروع ہوتی ہیں۔دوحہ نیوز کے مطابق گاڑیوں کی لائسنس پلیٹیں حاصل کرنے والے افراد کو دو دن کے اندر اندر رقم ادا کرنا ہو گی اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں انھیں 5492 ڈالر جرمانہ ادا کرنا ہو گا اور اس کے علاوہ وہ خصوصی نمبر پلیٹ حاصل کرنے کا حق کھو دیں گے۔
اخبار کے مطابق خلیجی ممالک میں ایسی نمبر پلیٹیں اور موبائل فون نمبر اس وجہ سے لیے جاتے ہیں کہ انھیں یاد رکھنا آسان ہو اور خاص کر خریدنے والے کے یومِ پیدائش کی مناسبت سے نمبر دستیاب ہوں۔
ویب سائٹ کے مطابق بعض اوقات مہنگے نمبر حاصل کرنے کے لیے لوگ مقروض بھی ہو جاتے ہیں۔
قطر میں گاڑیوں کی لائسنس پلیٹوں کے علاوہ مہنگے موبائل فون نمبر بھی بولیوں میں فروخت کیے جاتے ہیں۔

قطر میں گاڑیوں کی لائسنس پلیٹوں کے علاوہ مہنگے موبائل فون نمبر بھی بولیوں میں فروخت کیے جاتے ہیں
سال 2006 میں قطر کی نجی موبائل کمپنی ق?وٹیل نے 666۔6666 نمبر ساڑھے 36 لاکھ ڈالر میں فروخت کیا تھا اور اتنی بھاری رقم کے عوض نمبر خریدنے اب تک کا یہ عالمی ریکارڈ ہے۔
خلیجی ملکوں میں گاڑیوں اور موبائل فونز کے آسان اور پْرکشش نمبروں کا شوق رکھنے والے اکثر بھاری قیمتیں ادا کرتے ہیں۔
حال ہی میں ابوظہبی میں موبائل نمبر ٹرِپل سات یعنی 777 اور ٹیٹرا سات یعنی 7777 کی نیلامی ہوئی۔ 60 لوگوں نے بولی لگائی اور بالآخر یہ نمبر 79 لاکھ درہم میں فروخت ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…