امریکا کی سیلیکون ویلی میں پرانی اَشیاء کو ری سائیکل کرنے کا ایک مرکز ایک ایسی خاتون کو تلاش کر رہا ہے، جو ایپل کمپنی کا ایک ایسا پرانا کمپیوٹر وہاں پھینک گئی تھی، جس کی موجودہ مالیت دو لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ ریاست کیلیفورنیا کے شہر ملپیٹاس سے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کیسے اس خاتون کی طرف سے کوڑے میں پھینکی جانے والی ایک چیز کسی اور کے لیے خزانے کی شکل اختیار کر گئی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس امریکی خاتون کا شوہر انتقال کر گیا تھا۔ ’کلین بے ایریا‘ نامی ری سائیکلنگ فرم کے نائب صدر وکٹر گائیچن نے بتایا کہ جب اس خاتون نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد اُس کے گیراج کی صفائی کی اور الیکٹرانک آلات کے کچھ ڈبےّ وہاں سے اٹھا کر ری سائیکلنگ کے لیے اس فرم کے حوالے کر دیے۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ بیش قیمت کمپیوٹر بھی انہی ڈبوّں میں سے ایک کے اندر تھا۔ ری سائیکلنگ مرکز کا کہنا ہے کہ اس خاتون نے نہ صرف اپنے ان ڈبّوں کے لیے کوئی رسید لینے سے انکار کر دیا تھا بلکہ وہ اپنا نام پتہ بھی چھوڑ کر نہیں گئی تھی۔




















































