بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

احسن اقبال اور حنا ربانی کھر سے موبائل فون چھین لیا جائے قومی اسمبلی میں ایسا کیا ہوا کہ ڈپٹی اسپیکر کو یہ ہدایا ت جاری کرناپڑیں

datetime 14  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد ( آن لائن ) ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے شور شرابا کیا جا رہا ہے۔ڈپٹی اسپیکر نے ایوان میں ویڈیو بنانے والوں کے موبائل لینے کی ہدایت کر دی۔ڈپٹی اسپیکرنے احسن اقبال سے کہا کہ احسن اقبال قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپنے موبائل میں بنائی گئی ویڈیو ڈیلیٹ کریں۔

دپٹی اسپیکر نے کہا کہ احسن اقبال اور حنا ربانی کھر کا موبائل فون چھین کر ویڈیو ڈیلیٹ کی جائے۔جب کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی وزراء بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے جس پر ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ کتنی بار کہا ہے اپنی نشستوں پر تشریف رکھیں۔ڈپٹی اسپیکر ایوان کا موحول پر امن بنانے میں ناکام رہے۔ قومی اسمبلی میں خطاب کے لئے پہلی بار اپوزیشن لیڈر کو ڈائس کی فراہمی پر حکومتی اراکین نے سپیکر سے نکتہ اعتراض کا مطالبہ کر دیا۔جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا۔ انہوں نے ایوان سے اراکین کی رخصت کی درخواستوں کی منظوری لینے کے بعد ایجنڈے پر موجود آئندہ مالی سال 2019-20ء کے بجٹ پر بحث کے آغاز کے لئے فلور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے حوالے کیا تو حکومتی اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور سپیکر سے نکتہ اعتراض مانگنا شروع کردیا جس پر سپیکر نے بار بار انہیں تاکید کی کہ وہ اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں اور وہ شہباز شریف کو کہتے رہے کہ وہ اپنی تقریر کا آغاز کریں تاہم انہوں نے سپیکر سے ہائوس ان آرڈر کرنے کی استدعا کی۔بعد ازاں ڈاکٹر شیریں مزاری کو نکتہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت دی گئی تو ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو کبھی ڈائس نہیں دیا گیا پہلے ٹی ٹی کا جواب دیں پھر ہم ان کو بات کرنے دیں گے۔ یہ استحقاق سب کو دیں۔ سپیکر نے کہا کہ آپ کی سینئر لیڈر شپ کو بھی ڈائس دیں گے جس کو ضرورت ہوگی اس کو ڈائس دیں گے۔ راجہ پرویز اشرف نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ حکومتی ارکان ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اگر یہ شور شرابہ کریں گے تو ہائوس کے تقدس کا خیال کون کرے گا۔حکومت اپوزیشن کو کنٹینر دینے کی پیشکش کر رہی ہے لیکن اپوزیشن کو ایک ڈائس دینا برداشت نہیں کر سکے۔ ایسا رویہ کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ ارکان پارلیمانی آداب کو سمجھیں ان کی تربیت کا اہتمام کریں۔ اس دوران حکومتی ارکان مسلسل اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر بولتے رہے جس پر سپیکر نے اجلاس دس منٹ کے لئے ملتوی کردیا۔ تاہم اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو حکومتی ارکان ایک بار پھر اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور ایوان میں شور شرابا شروع ہوگیا جس پر سپیکر نے اجلاس دو بجے دوپہر تک ملتوی کردیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…