جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پھوٹ پڑ گئی، ججز کا بھی احتساب ہونا چاہیے، بڑی آواز بلند، متفقہ قرارداد منظور

datetime 9  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سپریم بار کونسل سپریم کورٹ کے ججز کے احتساب کے معاملے پر تقسیم ہوگئی، ججز کے احتساب کے لیے وکلاء ایکشن کمیٹی نے متفقہ قرارداد منظور کرلی، سپریم جوڈیشل کونسل سے اس قرارداد میں جلد از جلد ریفرنس کا فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا، سینئر رکن پاکستان بار کونسل شفیق بھنڈارا کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشنل کونسل ججز کا احتساب کرے۔ پنجاب بار کونسل وکلا ایکشن کمیٹی نے پاکستان بار کونسل سے 14 جون کو دی جانے والی ہڑتال کی کال واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔

اتوار کو پنجاب بار کونسل وکلاء ایکشن کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ہوا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب بار کونسل کے رہنما عمران منج نے کہا کہ اگرآپ کے ہاتھ صاف ہیں توجاکرصفائی پیش کریں، عدلیہ اپنی فہم وفراصت سے ریفرنس کافیصلہ کرے کیونکہ قانون سے کوئی بھی بالاترنہیں ہے، وکلاء کے اتحاد کو کوئی قوت تقسیم نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہاکہ ابھی صرف پنجاب بارکا اجلاس ہوا، جب پورے پاکستان کا اجلاس ہوگا اسلام آبادبھرجائیگا، اگر جج آپ کوبیگناہ لگتے ہیں تو انہیں باعزت بری کریں۔پنجاب بار کونسل کے رہنما نے وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم کا لائسنس اور رکنیت منسوخ کرنے کی مذمت کی اور اس اقدام کو غلط قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وکلا بچاؤتحریک ہے جج بچاؤ تحریک نہیں ہے۔ شفیق بھنڈارہ ممبر پاکستان بار کونسل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکیل دلیل سے بات کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں دھمکیاں زیب نہیں دیتیں۔ انہوں نے کہاکہ شفیق بھنڈارہ نے قرارداد پیش کی،آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی میں قرارد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قرار دا دمیں کہاگیاکہ صدر پاکستان نے جو ججز کے خلاف ریفرنس بھیجا ہے وہ عین قانون کے مطابق ہے،سپریم جوڈیشل کونسل ان ریفرنسز پر میرٹ پر فیصلے کرے، قرار دا د میں کہاگیاکہ امان اللہ کنرانی نے بلاجواز اعلان کئے ہیں،وکلاء سپریم جوڈیشل کونسل کے ساتھ کھڑے ہیں،آئینی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ قرار دا دمیں کہاگیاکہ انصاف کی فراہمی کیلئے وکلاء اپنی خدمات پیش کرتے رہیں گے۔ قرار داد میں کہاگیاکہ سپریم جوڈیشل کونسل کو اسکے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…