جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

کمائی کے دعوے ہوا میں اُڑ گئے، ریلوے کے خسارے میں 300 کروڑ کا اضافہ، انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 4  جون‬‮  2019 |

لاہو ر(این این آئی) مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء خان نے کہا ہے کہ پنجاب میں انتظامی بریک ڈاؤن ہو چکا ہے،پنجاب میں مٹی کا مادھو بٹھایا گیاہے جو ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے چلتا ہیں اکتوبر،نومبرتک پنجاب حکومت کے پاس تنخواہیں اداکرنے کے بھی پیسے نہیں ہونگے،اے پی سی میں ملک کو نالائق ٹیم سے جان چھڑانے کیلئے جو فیصلہ ہوگا اس میں اپنا کردار ادا کریں گے،ساہیوال سانحہ پر خاموش نہیں بیٹھیں گے،

پنجاب کو بنی گالہ میں غیر منتخب ٹیم اور نالائق اعظم چلا رہاہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عظمیٰ بخاری، عطاء اللہ تارڑ اور دیگر کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ پنجاب کا صوبہ 31مئی مئی 2018سے پہلے بہت بہتر تھا،امن و امان قائم ہوا،ترقیاتی کام ہوئے اورتمام صوبے پنجاب کی مثال دیتے تھے لیکن اب انتہائی افسوس سے کہنا پڑ رہاہے کہ پنجاب کاحال دیگر صوبوں کی طرح خراب ہو گیا ہے،پنجاب میں انتظامی بریک ڈاؤن ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ساہیوال واقعہ انتہائی افسوسناک ہے،محکمہ صحت جاں بحق بچوں کی تعداد آٹھ بتا رہا ہے،میڈیا میں 12اور 16جبکہ ترجمان حکومت تین بچوں کی بات کررہے ہیں،چوبیس گھنٹے میں تحقیقات کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔پرانے پاکستان میں ایسے واقعات ہوتے تو شہباز شریف کا ایکشن مثالی ہوتاتھا،ذمہ داروں کو سزا دلوائی جاتی تھی لیکن سانحہ ساہیوال پر کسی کو ذمہ دارٹھہرایا نہیں گیا،معصوم بچوں کی جانیں سرکاری غفلت سے گئیں ان کی تعداد سولہ یا آٹھ ہے ان کا ذمہ دار بنی گالہ میں ہے جس نے مٹی کا مادھو پنجاب میں بٹھایاہے ۔انہوں نے کہاکہ پنجاب کو بنی گالہ میں غیر منتخب ٹیم اور نالائق اعظم چلا رہاہے،پنجاب میں چالیس ترجمان وزیر اعظم نے تعینات کئے ہیں،ان کا گریڈ چار ہے یا زائد اس کی فیصلہ بھی وزیر اعظم کریں گے،حکومت پنجاب بنی گالہ کی مجرمانہ غفلت پر مقدمہ درج ہونا چاہیے اورذمہ داروں کے خلاف فوری ایکشن لینا چاہیے، ہم اس مسئلے کو دبائے نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نالائق اعظم کہتے رہے کہ کشتی الٹنے اور ہلاکت پر حکومت ذمہ دار ہوتی ہے،اب نئے پاکستان میں اس واقعہ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟۔ یہ نام نہاد وزیر اعلی یا بنی گالہ یا عمران نیازی پر عائد ہو گی؟۔کون اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرے گا،پوری قوت سے اس واقعہ کو بھولنے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے دور میں ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں ادویات مفت ملتی رہیں،سات سے آٹھ سال کوئی شکایت نہیں ملی اب ہسپتالوں میں ڈسپرین کی گولی مفت نہیں مل رہی،لیبارٹری ٹیسٹ کی بھی فیس لی جاتی ہے،

سرکاری ہسپتالوں سے علاج کی سہولت چھین لی گئی ہے،سستے رمضان بازار میں آدھا پاؤ لیموں او رایک پیاز او رچینی کیلئے شدید گرمی میں لائنیں لگوائی گئیں،جو حکومت سستا بازار نہیں لگا سکتی ہسپتالوں کو سنبھال نہیں سکتی وہ پاکستان کو کیسے چلائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنڈی کا شیطان شیدہ ٹلی نے ایک سال لوگوں کو کہا کہ ریلوے کا خسارہ ختم ہو جائے گا،ریل گاڑیاں ٹھیک ہو جائیں گی لیکن ریلوے کا 300کروڑکا خسارہ کر چکے ہیں،کوئی ٹرین بروقت نہیں پہنچ رہی،لوگ بددعائیں دے رہے ہیں۔خبر آتی ہے کہ تین سال کا ادھار تیل کا وعدہ کیا گیا،

تم مفت اور ادھار تیل لے رہے ہو اور بین الاقوامی دنیا میں قیمت کم اور پاکستان میں زیادہ ہو رہی ہے،کہاں ہیں ان کے ارسطو جو کہتے تھے نئے پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 46روپے ہو گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے،اس وقت تک ملک معاشی بحران سے نہیں نکل سکتا جب تک سب مل کر نہیں بیٹھیں گے،ملک کو اس طرف لیجایاجارہاہے کہ خدانخواستہ کوئی ناگہانی صورتحال پیدا نہ ہو جائے۔انہوں نے کہاکہ ووٹ لینے کے لئے فراڈ اورجھوٹ بولا گیا،سو دن کا پروگرام دیا اب بھی قوم کو افیم دینے کی کوشش کررہے ہیں،حکومت کے پاس اکتوبر،نومبر میں تنخواہوں کے پیسے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے پی سی میں ملک کی نالائق ٹیم سے جان چھڑانے کیلئے جو فیصلہ ہوں گے اس پر اپنا کردار ادا کریں گے۔انہوں نے کہاکہ اگر سانحہ ساہیوال پر تحقیقات نہ ہوئیں تو آنے والے وقت میں ہو جائیں گی پھر عثمان بزدار فر فر بتائیں گے کون کون ذمہ دار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…