جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

آزادی اظہار رائے لامحدود نہیں ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی ایم پر پابندی کیلئے دائر درخواست پربڑ ا حکم جاری کردیا

datetime 3  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن ) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے کہا ہے کہ ایک شخص کی آزادی ہے تو دوسرے کا بھی حق ہے۔آزادی اظہار رائے لامحدود نہیں ہے۔پاک فوج اور اور دیگر اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی پرپشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)پر پابندی کے لیے دائر درخواست پراسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی۔درخواست گزار کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ عدالت پاکستان

ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ہدایت دے کہ وہ غیر مناسب مواد کے خلاف اقدامات کرے۔جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ہم کسی ایک فرد کے خلاف حکم جاری نہیں کریں گے۔رٹ میں ڈائریکشن اداروں کے لیے جاری کریں گے تاکہ پالیسی بن سکے۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ سے وابستہ عناصر ملک اور فوج کو بدنام کر رہے ہیں،پی ٹی ایم کی جانب سے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کو مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ۔پی ٹی اے کو سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم کے تمام منفی پروپیگنڈے کو ہٹانے کا حکم دیا جائے۔درخواست گزار نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے محسن داوڑ اورعلی وزیر ر نے پیمرا کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے ۔پی ٹی اے کی جانب سے جواب داخل کرانے کے لیے مہلت طلب کی گئی ۔عدالت نے پی ٹی اے کی استدعا منظور کرلی ۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی جی انٹرنیٹ پروٹوکول پی ٹی اے کو اگلی سماعت میں ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ پیمرا کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہواعدالت نے اگلی سماعت پر پیمرا کے ذمہ دار افسر کوبھی طلب کر لیا۔عدالت نے منظور پشتین، محسن داوڑ اور علی وزیر کو بھی دوبارہ نوٹس جاری کرکے تحریری جواب طلب کیا ہے ۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست پر سماعت 13 جون تک ملتوی کرتے ہوئے سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع، سیکرٹری قانون، پیمرا اور پی ٹی اے کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…