جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

آئندہ  بجٹ میں سگریٹ اور شوگری مشروبات پر ہیلتھ ٹیکس لگانے کی منظوری دیدی گئی،تفصیلات جاری

datetime 30  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)آئندہ  بجٹ میں سگریٹ اور شوگری مشروبات پر ہیلتھ ٹیکس لگانے کی منظوری دیدی گئی۔جمعرات کو اپنے بیان میں معاون خصوصی برائے قومی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ ہیلتھ ٹیکس لگانے کی منظوری وزارت صحت کی سفارش پر کابینہ نے دی۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ معاشی مشکلات کے باوجود وزیر اعظم کا اس ٹیکس کی حمایت کرنا صحت کے حوالے سے ان کے عزم کا آئینہ دار ہے۔انہوں نے کہاکہ اس اقدام سے  مثبت اثرات پاکستان کی عوام کی صحت پر مرتب ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ بچوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ بے حد ضروری تھا۔انہوں نے کہاکہ ملک میں 15.6 ملین افراد تمباکو کا استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تمباکو نوشی سے پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد اموات ھوتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں چھ سے پندرہ سال کی عمر کے بارہ سو بچے روزانہ تمباکو نوشی کا آغاز کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ تمباکو کیاستعمال سے پیدا ہونے والی بیماریاں اور ان کے علاج اور معاشی نقصان تقریباً 143.208 بلین روپے ہیں۔انہوں نے کہاکہ شوگری مشروبات کے استعمال سے ذیابیطس اورغیر متعدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہاکہ بچوں کو تمباکو نوشی سے روکنے کے لیے سگریٹ کی قیمتوں میں اضافہ بے حد ضروری تھا۔انہوں نے کہاکہ ہیلتھ ٹیکس سے حاصل ہونے والی آمدن صحت کے شعبے پر خرچ کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ 20  سگریٹ کی ڈبی پر دس روپے ٹیکس لگایا جارہا ہے۔ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہاکہ سگریٹ پر ایکسائز ڈیوٹی بھی بڑھائی جا رہی ہے۔ڈاکٹر ظفرمرزا نے کہاکہ 250 ملی لیٹر کے مشروبات پر ایک روپے کا ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر ظفرمرزا  نے کہاکہ سگریٹ پر ہیلتھ ٹیکس لگانے کی مد میں تقریباً 30 ارب روپے سالانہ اضافہ ہو گا۔انہوں نے کہاکہ شوگری مشروبات پر ٹیکس کی مد میں تقریباً آٹھ ارب روپے سالانہ متوقع ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان کے ویڑن کے مطابق صحت کا شعبہ اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہاکہ صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات کے ثمرات بہت جلد عوام کو ملیں گے۔انہوں نے کہاکہ صحت کے شعبے میں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات میرا زاتی مشن ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…