جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

متبادل ذرائع کو فروغ دینا حکومت کی اوّلین ترجیح ہے ، صوبائی وزیر معدنیات

datetime 31  مئی‬‮  2015 |

لاہور(نیوز ڈیسک )صوبائی وزیربرائے معدنیات چودھری شیر علی خان نے کہا ہے کہ حکومت کوئلے اور سولر پروجیکٹس کے ذریعے انرجی مکس کے عمل کو فروغ دینے کیلیے بھرپور اقدامات اٹھارہی ہے تاکہ توانائی کے بحران کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے۔وہ لاہور چیمبر میں توانائی کے متبادل ذرائع کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ لاہور چیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز، نائب صدر سید محمود غزنوی، کنوینرسٹینڈنگ کمیٹی برائے کوئلہ و متبادل ایندھن فضل احمد، یو ای ٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر فضل احمد خالد، ڈائریکٹر ٹیکنیکل اینڈ آپریشنز ڈی جی خان سیمنٹ ڈاکٹر محمد کاشف اور جی سی یو کی لیکچرر فاطمہ اکرم سمیت دیگر ماہرین نے اس موقع پر خطاب کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا حکومت کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہے۔پنجاب میں سو میگاواٹ کا سولر پاور پروجیکٹ پہلے ہی فعال ہوچکا ہے جبکہ پنڈ دادن خان میں کوئلے سے 300میگاواٹ اور ساہیوال میں 1320میگاواٹ کے پاور پروجیکٹس پائپ لائن میں ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت مائننگ سیکٹر کی تنظیم نو کررہی ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کوئلے کے ذخائر سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ کان کنی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کا فروغ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی اوّلین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی بچت کیلیے اقدامات اٹھانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ پاکستان کو توانائی کے بحران کا سامنا ہے جس کی ایک بڑی وجہ توانائی کی پیداوار کیلیے روایتی ذرائع پر انحصار ہے لہذا توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا بہت ضروری ہے۔ اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ تین دہائیاں قبل پاکستان میں 70فیصد بجلی ہائیڈل جبکہ بقیہ دیگر ذرائع سے پیدا ہوتی تھی مگر اب صورتحال الٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں تقریباً چالیس فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کی جارہی ہے جبکہ پاکستان میں یہ پیداوار ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ، آسٹریلیا، چین، روس ، پولینڈ اور چیک ریپبلک میں 80ہزار میگاواٹ بجلی زیر زمین کوئلے کو گیس میں تبدیل کرکے پیدا کی جارہی ہے لہذا ہمیں بھی ایسے ہی اقدامات اٹھانا ہونگے۔ محمود غزنوی نے کہا کہ توانائی کا بحران پاکستان کی معاشی نشوونما کو متاثر کررہا ہے لہذا توانائی کے متبادل ذرائع کو ہر قیمت پر فروغ دینا ہوگا۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…