اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت میں گوشت لے جانے والے مسلمان جوڑے پر ہندوئوں کا بدترین تشدد ،اہلیہ پر تشدد کیلئے بھی اکساتے رہے ، جے شری رام کے نعرے بھی لگوائے

datetime 25  مئی‬‮  2019 |

نئی دہلی( آن لائن )بھارت میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں ملک کی قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کے اعلان کے دوسرے ہی روز مشتعل ہجوم نے مبینہ طور پر گائے کا گوشت لے جانے والے مسلمان جوڑے کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنا دیا۔

مشتعل ہجوم میں شامل افراد، جن میں سے بعض نے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، نے نوجوان کو ڈنڈوں اور لاتوں سے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس دوران اسے نازیبا الفاظ سے بھی پکارتے رہے جبکہ اس دوران نوجوان ان سے رحم کی اپیل کرتا رہا۔بعد ازاں ہجوم نے نوجوان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی اہلیہ پر تشدد کرے۔ویڈیو میں مزید دیکھا جاسکتا ہے کہ مشتعل ہجوم نے مسلمان جوڑے کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور نوجوان کو اس کی اہلیہ پر تشدد کے لیے کہا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں نوجوان نے اپنی اہلیہ کے سر میں جوتے برسائے اور ساتھ ہی ان سے ‘جے شری رام’ کے نعرے بھی لگوائے گئے۔بھارت کی ایک سماجی رضاکار رچنا دھینگرا نے مذکورہ ویڈیو کو سماجی روابط کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ حکام اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیں گے۔بعد ازاں جہاں سماجی رضا کار کو مذکورہ ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر ان کے اس اقدام کو سراہا گیا وہیں کچھ بھارتیوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ریاست اور اس کے وزیراعلیٰ کا ہے اور اس حوالے سے ملک کے وزیراعظم نریندر مودی سے سوال کرنا نا مناسب ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں گائے کے ذبح اور اسمگلنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کی لہر دیکھی گئی ہے۔2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گائے کے مبینہ ذبح اور اس کا گوشت کھانے کے الزام میں قتل میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…