اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

جاپان کے بعدپاکستان میں بھی جعلی فون کال مہم ”ونگیری“سے لوگوں کو لوٹا جانے لگا،کال انٹرنیٹ کے ذریعے کی جاتی ہے اور اسے نیٹ وار کہتے ہیں،سنسنی خیز انکشافات

datetime 21  مئی‬‮  2019 |

لاہور /نیویارک(این این آئی)سماجی رابطوں کی ویب سائٹ اور میسجز سروسز کے ذریعے پاکستان میں تمام سیلیولر نیٹ ورک کے نمبروں کو نشانہ بنانے والے جعلی فون کال مہم کے حوالے سے انتباہ پھیلنے لگا۔کئی شہریوں کو بین الاقوامی نامعلوم نمبروں سے فون کال موصول ہوئی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ونگیری یا ایک کال مہم کے ذریعے لوگوں کو ایک مس کال دی جاتی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ وہ واپس کال کریں گے اور ان سے اضافی ریٹ وصول کیا جائے گا۔

جاپان، جہاں سے اس جعلسازی مہم کا آغاز ہوا تھا، میں ونگیری کا مطلب ون رنگ اینڈ کٹ ہے۔وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) پنجاب کے سائبر کرائم ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر خالد انیس کا کہنا تھا کہ اس مہم کے حوالے سے پیغامات عوام میں خوف پھیلانے کے لیے کیے جارہے ہیں، انٹرنیشنل کالز کے ذریعے سم کارڈ کا استعمال کیا جانا ممکن نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ موصول ہونے والی کال انٹرنیٹ کے ذریعے کی جاتی ہے اور اسے نیٹ وار کہتے ہیں، اس طرح کے پیغامات بھیجنے سے ان افواہوں کی تصدیق ہوتی ہے۔اس طرح کی ایک جعلی مہم کا آغاز اس سے قبل 2012 میں ہوا تھا جب آسٹریلوی شہریوں نے نامعلوم بین الاقوامی نمبروں سے اس طرح کی کال موصول ہونے کی شکایت کی تھی۔کال بیک مہم کے ذریعے عوام کو کال کرکے انہیں تشویش میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ وہ واپس کال کریں جس پر ان سے کال کے 15 ڈالر تک چارج کرلیے جاتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق واپس کال کرنے سے آپ کی معلومات چوری نہیں کی جاسکتیں، اس کے لیے ہیکرز کو دیگر راستے اپنانے ہوں گے۔سیکیورٹی ماہر نوربرٹ المیڈا نے ایف آئی اے کے بیان کی تصدیق کی اور کہا کہ موبائل فونز کو اس طرح سے ہیک نہیں کیا جاسکتا، وہ صرف آپ سے کال واپس کرنے کی امید رکھ سکتے ہیں اور اضافی کال چارجز موصول کرسکتے ہیں جس میں سے ہیکرز کو ان کا حصہ ملتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…