جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

امریکاکی کھل کرمخالفت کرنے والاعالمی رہنما ہیوگورافیل شاویز

datetime 1  جون‬‮  2015 |

گیارہ سال میں وینزویلین صدرنے آٹھ بڑے صدارتی اورپارلیمانی انتخابات میں مسلسل میں کامیابی حاصل کی

انیس سواٹھاوےمیں پہلی مرتبہ برسراقتدارآنے کے بعد ہیوگیوشاویزکی ایک طرف نہایت قابل تعریف اوردوسری طرف نہایت ناپسندیدہ حکمران کے طورپراپنے ملک وینزویلااورپوری دنیامیں جانے جاتے ہیں۔گذشتہ گیارہ سال میں ہیوگیوشاویزنے آٹھ بڑے صدارتی اورپارلیمانی انتخابات میں مسلسل کامیابی حاصل کی ہے ۔یہ دنیامیں مسلسل جیتنے کاشایدسب سے بڑاریکارڈہے ۔حالیہ انتخابات میں شاویزاوریونایئنڈسوشلسٹ پارٹی آف وینزویلاکے لئے بڑاامتحان تھے کیونکہ سرمایہ داری نظام کے مکمل خاتمے اورسامراج کے مکمل خاتمے کےخلاف شاویزکی مسلسل جدوجہدکے انتقام میں دشمنوں نے نہ صرف معیشت میں مہنگائی ،افراط زراورانارکی پیداکی بلکہ دارالحکومت کاراکاس میں جرائم اورغنڈہ گردی کی انتہاکروادی۔اس سے عوام میں کسی حد تک معاشی بے چینی اورسماجی عدم تحفظ کی کیفیتوں نے جنم لیادوسری جانب عالمی طورپروینزویلامیں گماشتہ ذرائع ابلاغ نے شاویزکے خلاف ایک زیریلے پراپینگڈے کاسلسلہ جاری رکھاہواہے ۔ان انتخابات میں امریکی سامراج نے بائیں بازوکی حزب مخالف میں کروڑوں ڈالرانتخابات میں ووٹ خریدنے کے لئے تقسیم کئے ۔شاویزکے اتنے انتخابات وسیع عوامی حمایت سے جیتنے کے باﺅجود اس کوایک آمرکے طورپرمسلسل بدنام کیاجاتارہاہے لیکن ان تمام نامساعد حالات کے باﺅجود وینزویلاکے محنت کشوں اورنوجوانوں نے ایک مرتبہ پھرانقلابی سوشلزم کے حق میں اپنی حمایت کابھرپوراظہارکیاہے ۔شاویزکے خلاف سامراج اورسرمایہ دارحکمرانوںکے یہ مسلسل حملے صرف اس لئے کئے گئے کیونکہ دیواربرلن کے گرنے کے 15سال بعدشاویزنے ایک مرتبہ پھرسوشلزم کاپرچم بلندکیااورسٹالنزم کے جرائم میں سوشلزم کوملوث کرنے کے سامراجی پراپینگنڈے کوبے نقاب کرکے آج بھی نسل انسانی کی واحدنجات کے لئے سوشلسٹ انقلاب کوزندہ جاویدکیا۔

شاویزکی اصلاحات
شاویزجب اقتدارمیں آیاتھاتووہ مارکسی یاسوشلسٹ نہیں بلکہ ایک انقلابی جمہوریت پسندتھالیکن جب اس نے جمہوری انقلاب کے فرائض پورے کرنے کی کوشش کی توسامراج اوربورڈوازی نے اپنے ہی نظام کے مثبت اقدام کے خلاف مثبت اقدام کے خلاف شاویزکی راہ میں رخنہ اندازی کی ۔اس سے شاویزنے پہلے دوسالوں میں ہی اندازہ لگالیاتھاکہ جمہوری انقلاب کے فرائض (زرعی انقلاب،صنعتی انفراسٹریکچرکی بنیادیں ،قومی ریاست،سیکولرازم اورپارلیمانی جمہوریت وغیرہ)سرمایہ دارانہ جمہوریت میں آج کے عہدپورے نہیں ہوسکتے،جس کے بعد شاویزنے انقلابی اقدامات شروع کئے،آئی ایم ایف اوردوسرے سامراجی مالیاتی اداروں سے ملکی معیشت کوآزادکروایااوربہت سے بینکوں اورصنعتوں کوقومی تحویل میں لیا،سامراجی اورمقامی جاگیریں ضبط کیں اورسامراجی لوٹ کھسوٹ اورسرمایہ دارانہ استحصال کے خاتمے کے لئے بہت سے ریڈیکل اقدامات کئے ۔کیوباسے 25ہزارڈاکٹرمنگواکرتیل کی آمدن کے بڑے حصے کوصحت کے شعبے میں وقف کرکے غریبوں کے لئے اعلی علاج مفت فراہم کروایا۔آبادی کے بڑے حصے کوخواندہ کیااورچندسال میں خواندگی کی شرح 90فیصدسے تجاوزکرگئی جب شاویزاقتدارمیں آیاتھاتوملکی 80فیصدآبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہی تھی وہ کم ہوکر20فیصد رہ گئی لیکن شاویزکےلئے المیہ یہ تھاکہ ایک مخلص اورعوام میں مقبول رہنماتھالیکن اس کے پاس اپنی جماعت نہیں تھی جس کے بعد اس نے اپنی جماعت قائم کی جس کے چندماہ میں 56لاکھ کی ممبرشپ سے دنیاکی بڑی جماعت بن گئی ۔شاویزنے مزدوروں اورنوجوانوں کے لئے مسلح ملیشیاکااقدام اٹھایا۔شاویزکی شدید مخالفت کی وجہ سے وینزویلامیں تھوڑے تھوڑے وقفوں کے ساتھ عام انتخابات کرانے اورریفرنڈم کرانے اوراس کے بعد مطالبات نے زورپکڑااوران کی وجہ سے 1999سے 7اکتوبرتک وینزویلامیں پندرہ عام انتخابات اورریفرنڈم کرائے گئے مگرعام انتخاب میں شاویزنے پہلے سے زیادہ مقبولیت ثابت کی اورکامیابی حاصل کی ۔شاویزنے واضح طورپرثابت کردیاکہ لاطینی امریکاکے عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں۔
ہیوگوشاویزکی انتخابی مہم کی بنیاد
شاویزکی انتخابی مہم کی بنیادان تین اقدامات پرتھی جوانہوں نے حکومت کے دوران سرانجام دیئے تھے ۔
پہلااقدام:مکان دینے کاعظیم منصوبہ (Big Housing Mission)جس کے تحت ملک بھرمیں بے گھرلوگوں کودولاکھ بہترین مکانات دیئے گئے ہیں ۔یہ بنیادی طورپربیس لاکھ بے گھرلوگوں کومکانات دینے کامنصوبہ ہے۔
دوسراقدام:جس کے تحت ان دس لاکھ لوگوں کوبعدازریٹائرمنٹ کے فوائددیئے گئے ہیں جن کوپہلے سوشل سکیورٹی اورپینشن کاتحفظ حاصل نہیں تھا۔
تیسرااقدام:(Reformed Labour Laws)تھاجس کے تحت دیگرمزدوردوست اقدامات کے علاوہ روزگارکے تحفظ ،بچے کی پیدائش کے بعد ماں کوچھ ماہ باتنخواہ چھٹی،ٹھیکے پرمزدوروں کودینے کے خاتمے ،نئے مزدوروں کے لئے آزمائشی مدت کوتین ماہ سے گھٹاکرایک ماہ کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
اکیسوں صدی کے سوشلزم کے نعرے کے ساتھ شاویزنے نیولبرل نظریات کوبدترین شکست دی۔ہیوگوشاویزکے پچھلے چودہ سالہ دورحکومت میں وینزویلاکے عوام کامعیارزندگی بلندہوگیاہے۔
امریکاکاپراپیگنڈہ
اس دوران امریکہ کے مختلف اداروں National Endownment for Democracy کے علاوہInternaltional Repulican Instituieاور USAIDکے اداروں نے شاویزکے خلاف مہم پرکروڑوں ڈالرجھونک دیئے تھے ۔متحدہ حزب اختلافکی شاویزکے خلاف انتخابی مہم کوکامیاب کرنے کے لئے صدراوباماکی حکومت نے دوکروڑڈالرسے زیادہ کی رقم خرچ کی۔
ہیوگوشاویزکے خلاف عالمی پراپیگنڈا
وینزویلادودھڑوں میں بٹ چکاتھا۔ایک دھڑے کاکہناہے کہ شاویزغریبوں کے لئے کام کرتے ہیں جبکہ دوسروں کاکہناہے کہ وہ آمرکی حثیت اختیارکرچکے ہیں ۔ان کے حامیوں کے مطابق وینزویلاکے غریبوں کے حقوق کے لئے صرف انہوں نے آوازاٹھائی ہے جبکہ تنقیدکاروں کاکہناہے کہ وہ کیوباکے کیمونسٹ نظام کی پیروی کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
ہیوگوشاویزکے حمایتی ممالک
حال ہی میں چین نے وینزویلاکو40ارب ڈالرکاایک مستقل فنڈمہیاکردیاہے جس کاسرمایہ وینزویلاکے تیل کے محاصل سے آتاہے ۔اسی طرح وینزویلاکے اسلحے کاایک بڑاذریعہ روس ہے ۔انتخابات جیتنے پرواشنگٹن کومایوسی ہوئی جسے امیدتھی کہ اگروہ ہارگئے توامریکہ کے خلاف انکی دشنام طرازی کاخاتمہ ہوجائے گااورایران،روس اوربیلاروس جیسے غنیموں کے ساتھ وینزویلاکاگٹھ جوڑ ختم ہوجائے گاالبتہ کیوبا،بیجنگ اورماسکوکوونیزویلاکے انتخابی نتائج سے خوشی ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…