جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

وفاقی بجٹ، فنانس بل میں ٹاور کمپنی کا نیا کانسپٹ متعارف کرانے کا فیصلہ

datetime 30  مئی‬‮  2015 |
Construction site crane building a blue 3D text. Part of a series.

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وفاقی حکومت نے ملک میں موبائل فون ٹاورز کو ریگولیٹ کرنے کے لیے آئندہ مالی سال 2015-16کے وفاقی بجٹ میں فنانس بل میں ٹاور کمپنی کا نیا کانسپٹ متعارف کروانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے چاروں ٹیکس قوانین میں ترامیم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔اس ضمن میں ذرائع نے بتایا کہ ملک کی دو بڑی سیلولر موبائل فون کمپنیاں جوائنٹ ونچر کے تحت ٹاور کمپنی کے نام سے م±شترکہ کمپنی قائم کرنا چاہتی ہیں جس کے لیے سیلولر موبائل فون کمپنیوں نے آئندہ مالی سال 2015-16کے وفاقی بجٹ میں چاروں ٹیکس قوانین میں ترامیم کرنے کی تجویز دی ہے اور اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے سینئر افسر نے بتایا کہ ٹیلی کام سیکٹر کی جانب سے فنانس بل 2015-16 میں انکم ٹیکس،سیلز ٹیکس،فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ایکٹ اور کسٹمز ایکٹ میں ترامیم کرنے کی درخواست کی گئی ہے کیونکہ جوائنٹ ونچر کے تحت مذکورہ ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے ٹاورکمپنی کے قیام کے لیے ایف بی آرکا تعاون ضروری ہے اور اس کے لیے ٹیکس قوانین میں ترامیم کرنا پڑیں گی۔ذرائع نے بتایا کہ یوفون اور موبی لنک نے جوائنٹ ونچر کے تحت ٹاور کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ایف بی آر سے درخواست کی گئی ہے کہ فنانس بل میں ٹاور کمپنی کا نیا کانسپٹ متعارف کروائیں کیونکہ مذکورہ دونوں ٹیلی کام کمپنیاں جوائنٹ ونچر کے تحت ملک میں یہ کانسپٹ متعارف کروانا چاہتی ہیں اس لیے ان کی کوشش ہے کہ جب وہ ٹاور کمپنی کو متعارف کروائیں تو ملک کے ٹیکس قوانین میں ٹاور کمپنی کا کانسپٹ پہلے سے موجود ہو اور اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ذرائع نے بتایا کہ ٹاور کمپنی کے قیام کا بنیادی مقصد ملک میں موبائل فوں ٹاورز کو ریگولیٹ کرنا ہے۔ اس کمپنی کے ذریعے ملک بھر میں نصب ٹاور کو آپریٹ کیا جائیگا اور ان ٹاورز کے ذریعے جتنے بھی آپریشنز ہوتے ہیں وہ یہ کمپنی ریگولیٹ کرے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹیلی کام سیکٹر کی جانب سے ملنے والی اس تجویز کو بجٹ میں شامل کیے جانے کا امکان ہے اور توقع ہے کہ اگلے فنانس بل میں اس حوالے سے ترامیم کرکے ضروری شقیں متعارف کروادی جائیں گی کیونکہ اس سے ٹیلی کام سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور ٹیلی کام سروسز میں مزید بہتری آئے گی جس سے ریونیو بڑھے گا



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…