منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے ڈرون حملے نہ رکوانے پر دائر توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ سنادیا

datetime 9  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستا ن نے ڈرون حملے نہ رکوانے پر دائر توہین عدالت کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈرون حملے رکوانا عدالت کا کام نہیں ،ڈرون حملے رکوانا نیشنل سیکورٹی اور وزارت خارجہ کی پالیسی سے تعلق رکھتا ہے۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں ڈرون حملے نہ رکوانے پر حکومت کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی

بینچ نے کی۔ دور ان سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ 2015 میں ڈرون حملے رکوانے کیلئے درخواست دی گئی تھی ۔انہوںنے کہاکہ درخواست پر ہائیکورٹ نے ڈرون حملے روکنے کا حکم دے دیا ،کیا ہائیکورٹ ڈرون حملے روکنے کا حکم دی سکتی تھی ؟۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہائیکورٹ نے امریکہ کو حکم دیا خبردار ڈرون حملے نہ کرو ،یقینی تھا امریکہ نے ہائیکورٹ کی کہاں سننی تھی ،اب تو ویسے بھی ڈرون حملے رک چکے ہیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ ڈرون حملے رکوانا عدالت کا کام نہیں ۔ وکیل نے کہاکہ ہمارا موقف ہے کہ ڈرون حملوں میں بچے عورتیں ،جانور مرتے ہیں ،امریکہ مرنے والوں کو دیت بھی دے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ امریکہ نے کیا کرنا ہے کیا ہائیکورٹ فیصلہ کریگی۔جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ وکیل صاحب آ پ اپنے دل سے پوچھیں عدالت میں کس چیز کیلئے کیا بحث کر رہے ہیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ درخواست گزار کے جذبے کی قدر کرسکتے ہیں تاہم قانونی طور پر کچھ نہیں ہو سکتا ۔چیف جسٹس نے کہاکہ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے حکم میں پہلے ڈرون حملے روکنے کا حکم دیدیا،حملے نہ رکے تو ہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں کہہ دیا نہیں سن سکتے ۔چیف جسٹس نے کہاکہ ڈرون حملے رکوانا نیشنل سیکورٹی اور وزارت خارجہ کی پالیسی سے تعلق رکھتا ہے ۔عدالت نے ڈرون حملے نہ رکوانے پر دائر توہین عدالت کی درخواست خارج کردی۔ یاد رہے کہ رخواست عام شہری راجہ سعید سلطان نے دائر کی تھی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…