اسلام آباد (این این آئی) سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازم کو گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کرنا شرمناک ہے،بیل آؤٹ پیکج دینے والے مالیاتی ادارے کے ملازم کو گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کر دینا مفادات کا ٹکراؤ ہے۔
ایک بیان میں انہوں ن ے کہاکہ یہ اقدام پاکستان کو عالمی مالیاتی سامراج کی نوآبادی بنانے سے مترادف ہے۔انہوں نے کہاکہ بیل آؤٹ پیکج دینے والے مالیاتی ادارے کے ملازم کو گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کر دینا مفادات کا ٹکراؤ ہے،واضح ہے کہ مالیاتی ادارے کے ملازم کی وفاداری پاکستان کے ساتھ نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات شرمناک ہے کہ صوبائی وزراء خزانہ کو آئی ایم ایف کے درمیانی درجے کے ملازم کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ شرمناک ہے کہ وزراء کو اچھا رویہ برتنے کا کہا گیا۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف نئی ایسٹ اینڈ یا کمپنی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے بندے اب مشیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک ہیں۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں اس حد تک کبھی قبضہ نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ کبھی کسی پاکستانی حکومت نے یہ دعوی ٰبھی نہیں کیا تھا کہ آف شور تیل اور گیس کے ذخائر دریافت ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ لوٹنے والے پہلے ہی آ گئے،آئی ایم ایف کے ہاتھوں فروخت کرکے پاکستان کی مالی خود مختاری اور قومی سلامتی پر سمجھوتہ کیا گیا ہے سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازم کو گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کرنا شرمناک ہے،بیل آؤٹ پیکج دینے والے مالیاتی ادارے کے ملازم کو گورنر اسٹیٹ بینک تعینات کر دینا مفادات کا ٹکراؤ ہے۔ ایک بیان میں انہوں ن ے کہاکہ یہ اقدام پاکستان کو عالمی مالیاتی سامراج کی نوآبادی بنانے سے مترادف ہے۔



















































