کراچی(نیوز ڈیسک) آئی ایم ایف کے مقامی نمائندے توخرمیرزوایوونے پاکستان کی بہتر ہوتی4.1 فیصد جی ڈی پی نمو کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ترقی کی رفتار کو تیز کرنے پر زور دیا ہے تاکہ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرتے ہوئے بیروزگار افراد کو پاکستان میں ملازمتیں میسر آسکیں۔
یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پرایک اجلاس سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت بتدریج بہتر اور مستحکم ہو رہی ہے جبکہ تیل کی کم قیمت،افراط زرکی شرح میں کمی اور مستحکم زرمبادلہ کے باعث معاشی اشارے بھی ترقی کو ظاہر کرتے ہیں۔ تیل کی گھٹتی ہوئی قیمتوں کے تناظرمیں انہوں نے کہاکہ خوش قسمتی سے اس سے مواقع پیدا ہوئے اور اب یہ پاکستان پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح اس کا استعمال کرتا ہے۔
انہوں نے ملک کے کاروباری ماحول کو بہتر بنانے، مجموعی ٹیکس نیٹ میں اضافے اوراصلاحات لانے پر زور دیا تاکہ معیشت سمت پررہے، توخرمیرزوایونے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے کے سی سی آئی کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ قرض حاصل کرنے پر انحصار درست راستہ نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ میں اضافے کو یقینی بناتے ہوئے پاکستان کو ریونیو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ریونیو سے حاصل ہونے والی آمدنی کومختلف ترقیاتی منصوبوں باالخصوص توانائی،صحت ،تعلیم و دیگر منصوبوں کے لیے استعمال کیا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ ٹیکسیشن پاکستان کے لیے اہم مسئلہ بنا ہوا ہے اگرچہ گزشتہ دو سالوں میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہ اب بھی 10فیصد کے قریب نچلی سطح پر ہے اور اسے20 فیصد کی سطح پر لے جانے کے لیے کوششیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ریونیو ہدف حاصل کرنے کا بہترین پہلا آپشن ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور دوسرا آپشن موجودہ ٹیکس گزاروں کے لیے ٹیکس کی شرح کوزیادہ کرنا ہے لیکن آئی ایم ایف پہلے آپشن کے حق میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی عزم،ویڑن اور صلاحیتوں کونکھارنے کی واضح حکمت عملی اورتربیت سے ہی پاکستان کو درپیش مسائل پر قابو پایاجاسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ توانائی کے شعبے کو بہتر بنانے،ٹیکس نیٹ میں توسیع،کاروباری ماحول میں بہتری،زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور ان شعبوں میں مربوط اصلاحات کا نفاذ آئی ایم ایف کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس پروگرام کو اختیار کرکے پاکستان کو ابھرتی ہوئی اقتصادی مارکیٹ کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کراچی چیمبر کے دورے کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہاکہ آئی ایم ایف کے سی سی آئی کے ساتھ رابطے استوار کرنے کاخواہشمند ہے تاکہ دونوں ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے خیالات کا تبادلہ کرسکیں۔ کراچی چیمبر کے صدر افتخار احمد وہرہ نے آئی ایم ایف حکام کی جانب سے مجموعی کاروباری ماحول اور ملک کو درپیش معاشی چیلنجز سے متعلق کے سی سی آئی کی رائے لینے کو ترجیح دینے کو سراہا۔
کراچی چیمبر نے مختلف مواقع پریہ سنگین مسئلہ اٹھایا اورکے سی سی آئی کا یہ پختہ یقین ہے کہ ٹیکس نیٹ میں اضافے کے بغیر پاکستان کبھی بھی بحرانوں سے نکل نہیں پائے گا۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ چند سال سے نجی شعبے میں تجارت و صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ کاروباری لاگت کا آسمان پر پہنچنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں براہ راست ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں نئے آنے والوںکی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں برابری کی سطح پر کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی جی ڈی پی نموکو ناکافی قراردیدیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
لیفٹننٹ کرنل کی اہلیہ کا سربراہ شعبہ کے ساتھ ایشو چل رہا تھا، کیس ثابت ہونے پر معطل کردیا گیا اسی با...
-
نئے کرنسی نوٹ کب تک آئیں گے؟ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے بتا دیا
-
پنجاب میں تعلیمی اداروں کےلئے پیر تا جمعہ نئے اوقات کار مقرر
-
ہونڈا CD 70 ایکسچینج آفر، پرانی بائیک دیں اور نئی لے جائیں
-
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مسلم لیگ (ن) میاں نواز شریف کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
بارشوں کا نیا اسپیل 27 اگست سے آنےکو تیار ، محکمہ موسمیات کی پیشگوئی آگئی
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا
-
ہونڈا کی ایکسچینج سہولت، پرانی سی ڈی 70 دے کر نئی موٹر سائیکل حاصل کرنے کا موقع
-
حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات
-
ایپل کی جانب سے آئی فون 18 سیریز کی قیمتوں میں کتنا اضافہ کیا جا رہا ہے؟
-
ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں آج پھر بڑااضافہ
-
حنا جاوید قتل کیس،قاتل شوہر کو جج نہ کرنے کی فرضی مثال، ملزم کا پرانا لیکچر وائرل
-
کھانا بنانے کا تنازع، بیوی کے فرائنگ پین سے حملے میں شوہر جاں بحق
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی



















































