منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فرخ عرفان نام پانامہ سکینڈل میں سامنے آنے کے باوجود تین سال تک جج رہے،انہیں نہ سزا ہوئی اور نہ یہ (عہدے) سے ہٹے‘ نواز شریف کا نام پانامہ سکینڈل میں براہ راست نہیں آیا تھا‘اس کے باوجود فارغ کیوں ہو گئے؟2008 سے 2018 تک 60ارب ڈالرز کا لیاگیا قرض کہاں گیا؟دو چار ہفتوں میں نوکریوں کی بارش ہونے والی ہے‘ مگرکیسے؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 9  اپریل‬‮  2019 |

خواتین وحضرات ۔۔ انصاف کے بارے میں کہتے ہیں انصاف صرف ہونا نہیں چاہیے یہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے اور یہ کام عدلیہ اور ججز کرتے ہیں‘ آج لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فرخ عرفان نے اپنے (عہدے) سے استعفیٰ دے دیا‘ ان کا نام اپریل 2016ء میں پانامہ سکینڈل میں سامنے آیا تھا‘ یہ سکینڈل میں ہونے کے باوجود تین سال تک جج رہے‘ ۔۔اس دوران ۔۔ان کے خلاف جوڈیشل کونسل میں ریفرنس چلتا رہا ۔۔لیکن ۔۔انہیں کونسل سے سزا ہوئی اور نہ یہ (عہدے) سے ہٹے‘

یہ پانامہ سکینڈل میں ہونے کے باوجود کام کرتے رہے‘ یہ آج بھی خود مستعفی ہوئے ہیں‘ ۔۔انہیں کسی نے ہٹایا نہیں‘ یہ اگر استعفیٰ نہ دیتے تو یہ اگلے سال جون میں باعزت ریٹائر ہو جاتے۔ جسٹس فرخ عرفان کی مثال ملک میں انصاف کے نظام پر ایک ٹھیک ٹھاک سوالیہ نشان ہے‘ ہمارے جسٹس سسٹم نے دو منتخب وزراء اعظم یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کو کھڑے کھڑے فارغ کر دیا تھا‘ نواز ریف کا نام پانامہ سکینڈل میں براہ راست نہیں آیا تھا‘ ۔۔ان کے خاندان کی کمپنیاں تھیں ۔۔لیکن یہ ۔۔اس کے باوجود فارغ ہو گئے جبکہ یوسف رضا گیلانی نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس عدالت کو خط نہیں لکھا تھا لہٰذا یہ دونوں عدالتی حکم سے گھر بھجوا دیئے گئے جبکہ ریاست جسٹس فرخ عرفان کا اپنا نام پانامہ سکینڈل میں آنے کے باوجود ۔۔انہیں ۔۔ان کے (عہدے) سے نہیں ہٹا سکی‘ یہ تین سال بعد خود مستعفی ہوئے ہیں‘ ہم ۔۔اس انصاف کو کیا نام دیں گے‘ ہم بہرحال آج کے موضوعات کی طرف آتے ہیں وفاقی کابینہ نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کی منظوری دیدی ہے ،سترہ اپریل کو وزیر اعظم منصوبے کا افتتاح کرینگے ،پہلے مرحلے میں ایک لاکھ 35ہزار گھربنائے جائیں گے،بلوچستان میں ایک لاکھ 10ہزار گھر بنیں گے ، وفاقی ملازمین کیلئے بھی 25ہزار اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائینگے۔ حکومت نے ملک کی دگرگوں معاشی حالت کے باوجود

اتنا بڑا پراجیکٹ لانچ کرنے کا اعلان کر کے پورے ملک کو حیران کر دیا‘ یہ اعلان کیا ثابت کرتا ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ آج فواد چودھری نے ٹویٹر کے ذریعے قوم سے ایک سوال بھی کیا‘ان کا کہنا تھا‘1947سے 2008 تک پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 37 بلین ڈالرتھا‘ اس رقم سے اسلام آباد بنا‘تربیلا بنا‘منگلا بنا‘نیول بیسز بنائیں‘ فوج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کیا‘ گوادر بنایا‘ موٹر وے بنی‘ 2008 سے 2018 تک بیرونی قرضہ 97 ارب ڈالر پرپہنچ گیا‘ یعنی 60 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا‘ سوال یہ ہے یہ پیسہ کہاں گیا؟۔ یہ سوال واقعی اہم ہے اور قوم خوش ہو جائے دو چار ہفتوں میں نوکریوں کی بارش ہونے والی ہے‘ کیسے؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…