منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ہم بے گناہی کے باوجود گرفتار ہو جاتے ہیں اور یہ کرپشن کے باوجود صرف دو افسروں کو معطل کرتے ہیں‘ کیا یہ رقم سرکاری خزانے کی نہیں تھی یا پھر شاید احتساب اپوزیشن کیلئے جیل اور حکومت کیلئے تالیوں کا نام ہے‘ یہ تضاد کیوں ہے؟پنجاب حکومت نے کفایت شعاری کا ایک بار پھر منہ چڑا دیا، جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 3  اپریل‬‮  2019 |

کسی جج نے بادشاہ کے بیٹے کو 70 کوڑوں کی سزا سنا دی‘ بیٹا سزا سن کر پریشانی میں والد کی طرف دیکھنے لگا‘ بادشاہ نے شہزادے کو تسلی دیتے ہوئے کہا سزا سنانا ججوں کا کام ہوتا ہے اور سزاؤں پر عمل کرانا بادشاہوں کا‘ جاؤ ہم آج سے گلاب کے پھول کو کوڑا ڈکلیئر کرتے ہیں‘ بادشاہ نے اس کے بعد جلاد کو حکم دیا تم سزا پر عمل کرو‘ جلاد نے گلاب کے ستر پھول منگوائے اور شہزادے پر برسا کر 70 کوڑوں کی سزا مکمل کر دی‘ حکومتیں بڑی کاریگر ہوتی ہیں‘ یہ اگر چاہیں تو

یہ شادی کو پھانسی اور پھانسی کو شادی ڈکلیئر کر سکتی ہیں‘ پنجابی میں کہتے ہیں غریب کیلئے گز ہمیشہ ڈھائی فٹ کا ہوتا ہے اور طاقتور جب کپڑا خریدتے ہیں تو یہ ڈانگوں سے ماپتے ہیں‘ ہمیں اکثر اوقات اس ملک میں بھی ایسی ہی صورت حال دکھائی دیتی ہے‘ آپ دیکھ لیجئے میاں شہباز شریف آشیانہ ہاؤسنگ اور صاف پانی میں حوالات اور جیل بھگت کر گھر بھی چلے گئے ہیں‘ احد چیمہ‘ فواد حسن فوادآج بھی آشیانہ سکینڈل میں جیلوں میں دھکے کھا رہے ہیں لیکن کے پی کے حکومت کی اپنی انسپکشن ٹیم نے پشاور کی میٹرو میں 7 ارب روپے کی کک بیکس ‘ ناقص منصوبہ بندی‘ ڈیزائن میں خرابیوں اور تعمیر میں گھپلوں کی نشاندہی کر دی‘ انسپکشن ٹیم نے 27 صفحات پر مبنی رپورٹ جاری کر دی‘ یہ میٹرو29 اکتوبر2017ء کو شروع ہوئی‘ یہ جون 2018ء میں مکمل ہونا تھی لیکن یہ آج 18ماہ بعد بھی مکمل نہیں ہو سکی‘ یہ 50 ارب روپے کا منصوبہ تھا‘ اس پر اب تک 68 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں لیکن یہ ابھی تک مکمل نہیں ہوئی‘صوبائی حکومت نے ناقص منصوبہ بندی اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے جرم میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ کامران رحمن اور ڈی جی پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسرارالحق کو معطل کر دیا‘ اپوزیشن کا کہنا ہے ہماراجرم ثابت نہیں ہوا‘ عدالتوں نے نیب کا ریفرنس اڑا کر رکھ دیا لیکن میاں شہباز شریف‘ فواد حسن فواد اور

احد چیمہ کو گرفتار کر لیاگیا تھا مگر بی آر ٹی کی ناقص منصوبہ بندی‘ تاخیر اور کرپشن کی خوفناک کہانیوں کے باوجود صرف دو افسروں کو معطل کیا گیا‘ ہم بے گناہی کے باوجود گرفتار ہو جاتے ہیں اور یہ کرپشن کے باوجود صرف دو افسروں کو معطل کرتے ہیں‘ کیا یہ رقم سرکاری خزانے کی نہیں تھی یا پھر شاید احتساب اپوزیشن کیلئے جیل اور حکومت کیلئے تالیوں کا نام ہے‘ یہ تضاد کیوں ہے؟ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا اور پنجاب حکومت نے کفایت شعاری کا ایک بار پھر منہ چڑا دیا‘ 70 نئی گاڑیاں خریدنے کی سمری جاری ہو گئی‘ ہم اس پر بھی بات کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…