منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

ہم بے گناہی کے باوجود گرفتار ہو جاتے ہیں اور یہ کرپشن کے باوجود صرف دو افسروں کو معطل کرتے ہیں‘ کیا یہ رقم سرکاری خزانے کی نہیں تھی یا پھر شاید احتساب اپوزیشن کیلئے جیل اور حکومت کیلئے تالیوں کا نام ہے‘ یہ تضاد کیوں ہے؟پنجاب حکومت نے کفایت شعاری کا ایک بار پھر منہ چڑا دیا، جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 3  اپریل‬‮  2019 |

کسی جج نے بادشاہ کے بیٹے کو 70 کوڑوں کی سزا سنا دی‘ بیٹا سزا سن کر پریشانی میں والد کی طرف دیکھنے لگا‘ بادشاہ نے شہزادے کو تسلی دیتے ہوئے کہا سزا سنانا ججوں کا کام ہوتا ہے اور سزاؤں پر عمل کرانا بادشاہوں کا‘ جاؤ ہم آج سے گلاب کے پھول کو کوڑا ڈکلیئر کرتے ہیں‘ بادشاہ نے اس کے بعد جلاد کو حکم دیا تم سزا پر عمل کرو‘ جلاد نے گلاب کے ستر پھول منگوائے اور شہزادے پر برسا کر 70 کوڑوں کی سزا مکمل کر دی‘ حکومتیں بڑی کاریگر ہوتی ہیں‘ یہ اگر چاہیں تو

یہ شادی کو پھانسی اور پھانسی کو شادی ڈکلیئر کر سکتی ہیں‘ پنجابی میں کہتے ہیں غریب کیلئے گز ہمیشہ ڈھائی فٹ کا ہوتا ہے اور طاقتور جب کپڑا خریدتے ہیں تو یہ ڈانگوں سے ماپتے ہیں‘ ہمیں اکثر اوقات اس ملک میں بھی ایسی ہی صورت حال دکھائی دیتی ہے‘ آپ دیکھ لیجئے میاں شہباز شریف آشیانہ ہاؤسنگ اور صاف پانی میں حوالات اور جیل بھگت کر گھر بھی چلے گئے ہیں‘ احد چیمہ‘ فواد حسن فوادآج بھی آشیانہ سکینڈل میں جیلوں میں دھکے کھا رہے ہیں لیکن کے پی کے حکومت کی اپنی انسپکشن ٹیم نے پشاور کی میٹرو میں 7 ارب روپے کی کک بیکس ‘ ناقص منصوبہ بندی‘ ڈیزائن میں خرابیوں اور تعمیر میں گھپلوں کی نشاندہی کر دی‘ انسپکشن ٹیم نے 27 صفحات پر مبنی رپورٹ جاری کر دی‘ یہ میٹرو29 اکتوبر2017ء کو شروع ہوئی‘ یہ جون 2018ء میں مکمل ہونا تھی لیکن یہ آج 18ماہ بعد بھی مکمل نہیں ہو سکی‘ یہ 50 ارب روپے کا منصوبہ تھا‘ اس پر اب تک 68 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں لیکن یہ ابھی تک مکمل نہیں ہوئی‘صوبائی حکومت نے ناقص منصوبہ بندی اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے جرم میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ کامران رحمن اور ڈی جی پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اسرارالحق کو معطل کر دیا‘ اپوزیشن کا کہنا ہے ہماراجرم ثابت نہیں ہوا‘ عدالتوں نے نیب کا ریفرنس اڑا کر رکھ دیا لیکن میاں شہباز شریف‘ فواد حسن فواد اور

احد چیمہ کو گرفتار کر لیاگیا تھا مگر بی آر ٹی کی ناقص منصوبہ بندی‘ تاخیر اور کرپشن کی خوفناک کہانیوں کے باوجود صرف دو افسروں کو معطل کیا گیا‘ ہم بے گناہی کے باوجود گرفتار ہو جاتے ہیں اور یہ کرپشن کے باوجود صرف دو افسروں کو معطل کرتے ہیں‘ کیا یہ رقم سرکاری خزانے کی نہیں تھی یا پھر شاید احتساب اپوزیشن کیلئے جیل اور حکومت کیلئے تالیوں کا نام ہے‘ یہ تضاد کیوں ہے؟ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا اور پنجاب حکومت نے کفایت شعاری کا ایک بار پھر منہ چڑا دیا‘ 70 نئی گاڑیاں خریدنے کی سمری جاری ہو گئی‘ ہم اس پر بھی بات کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔



کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…