اسلام آباد(نیوز ڈیسک) علم و فن کے میدان ہوں یا عسکری قوت کی بات، آج جس طرف بھی نظر اٹھائیں مغرب کا جھنڈا لہراتا نظر آتا ہے۔ آج مسلمانانِ عالم پر مایوسی چھائی نظر آتی ہے لیکن اگر ہم اسلام کے دور زریں پر نظر ڈالیں تو نہ صرف سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے بلکہ یہ امید بھی نظر آتی ہے کہ مسلمان ایک دن پھر اقوام عالم کی امامت کریں گے۔
آٹھویں اور تیرہویں صدی عیسوی کے دوران مسلمان نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی سلطنت کے حکمران بنے بلکہ علوم و فنون کے آسمان پر بھی سورج کی طرح چمکتے رہے۔ مغربی م?رخین اس دور کو “Islamic Golden Age” یعنی اسلام کا سنہرا دور کہتے ہیں۔ یہی دور آج کی جدید فلاحی ریاستوں کے لئے بھی روشن مثال بنا۔ اس دور میں مسلمانوں نے دنیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ سرکاری ہسپتال قائم کئے جنہیں بیمارستان کہا جاتا تھا۔ ان ہسپتالوں میں کام کرنے والے طبیبوں کو اس وقت کی عظیم ترین جامعات سند جاری کیا کرتی تھیں اوریہ نظام بالکل ایسے ہی کام کرتا تھا جیسے آج کے جدید ہسپتال اور ان میں کام کرنے والے سند یافتہ ڈاکٹر کام کرتے ہیں۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز آج بھی تسلیم کرتی ہے کہ 859 عیسوی میں مراکش میں قائم کی جانے والی جامعۃ القرویین ڈگری جاری کرنے والی دنیا کی پہلی یونیورسٹی ہے۔ آج کے دور میں یونیورسٹیاں اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کرنے والوںکو پی ایچ ڈی کی ڈگری جاری کرتی ہیں اور مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ پی ایچ ڈی کی ڈگری اس لائسنس کی جدید شکل ہے جو اسلامی فقہ پڑھانے کے لئے مطلوبہ قابلیت کا مظاہرہ کرنے والوں کو جاری کیا جاتا تھا۔
اسلام کے دور زریں میں ہی تجرباتی اور مقداری سائنس کی بنیاد رکھی گئی اور اسی بنیاد پر آج کی جدید سائنس کی بنیادیں استوار کی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب بھی ابن الہیثم کو دنیا کا پہلا حقیقی سائنسدان مانتا ہے۔ اسلامی حکومت کی طرف سے بڑی بڑی لیبارٹریاں اور رصدگاہیں قائم کی گئیں جن میں کام کرنے والے تحقیق کاروں کو انتہائی ممتاز مقام حاصل تھا اور انہیں اس قدر بھاری وظائف دئیے جاتے تھے کہ جو آج کل کے حساب سے کروڑوں روپے ماہانہ بنتے ہیں۔
جب پندرہویں صدی عیسوی میں پولینڈ کے عظیم سائنسدان کوپر نیکس نے جیو سینٹرک (زمین نظام شمسی کا مرکز ہے) نظریے کو رد کرکے ہیلیو سینٹرک (سورج نظام شمسی کا مرکز ہے) نظریہ پیش کیا تو کہا گیا کہ انسان کی علمی تاریخ میں عظیم ترین انقلاب برپا ہوگیا، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نئے نظریے کی بنیاد بھی مسلمان سائنسدان رکھ چکے تھے۔ اسی طرح نیچرل سلیکشن کے جدید نظریے کی بنیاد بھی مسلمان سائنسدان الجاحظ نے رکھی۔
صرف عسکری اور سائنسی میدان ہی نہیں بلکہ ادب کے میدان میں بھی مسلمان مفکرین کا کوئی ثانی نہ تھا۔ تیرہویں صدی کے عظیم مسلمان دانشور جلال الدین محمد رومی نے انسانی تاریخ کی نفیس ترین شاعری تخلیق کی۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ ہماری نوجوان نسل رومی کا نام بھی بھول چکی ہے لیکن امریکا اور دیگر مغربی ممالک میں آٹھ صدیاں گزرنے کے باوجود رومی کا شمار مقبول ترین شاعروں میں کیا جاتا ہے اور وہ ان چند شاعروں میں شامل ہیں کہ جن کی شاعری کی کتب آج کے دور میں بھی ہر سال لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہوتی ہیں۔
مسلمانوں کی عظیم دانش سے مغرب تو آج بھی بہرہ ور ہورہا ہے لیکن یہ گمشدہ مال منتظر ہے کہ اس کا اصل مالک کب اس کی طرف توجہ کرے گا۔
اسلام کا سنہرا دور
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پانچ سو ڈالر
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
موبائل صارفین بیلنس کٹوتی سے کیسے محفوظ رہیں؟ بالکل مفت اور آسان طریقہ
-
ایران امریکا مذاکرات کا اعلان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی



















































