مغربی بنگال کے کرشن نگر ویمن کالج میں 9جون کو ایک منفرد تاریخ رقم ہوگی جب ادارے کے پرنسپل کا عہدہ ایک ہیجڑہ سنبھال لے گا۔ مانابی بندوپڑھیا بنگالی زبان کی ایسوسی ایٹ پروفیسرہیں اور انہیں کالج سروس کمیشن نے اس عہدے کیلئے نامزد کیا ہے۔ اس فیصلے کو ٹیکنیکل ایجوکیشن منسٹری اوروزارت تعلیم کی جانب سراہا جارہا ہے کیونکہ اس طرح بھارت میں ہیجڑوں کے ساتھ برتے جانے والے صنفی امتیاز میں کمی آنے کا امکان ہے۔ مانابی کو ان کے عہدے کے حوالے سے نوٹیفکیشن موصول ہوچکا ہے جس کے بعد انہوں نے گزشتہ روز کالج کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ ان کا گود لیا گیا بیٹا دیباسیش اور ان کا ایک ہم قبیلہ دوست جیوتی سمانتا ساتھ تھے۔ مانابی کا کہنا تھا کہ انہیں پرنسپل کے عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں تاہم وہ نتھالی میں رہائش پذیر اپنے 92 سالہ والد کیلئے پریشان رہتی ہیں۔ اسی لئے انہوں نے یہ پیشکش بھی قبول کی کیونکہ اس طرح وہ اپنے والد کے قریب ہوں گی اور ان کی دیکھ بھال کرنا آسان ہوگا ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مانابی کے اس دورے کے موقع پر کالج کے تدریسی عملے میں ایک سنسنی خیزی محسوس کی جارہی تھی تاہم مانابی کے انداز سے کہیں سے یہ معلوم نہ ہوتا تھا
کہ وہ ایک تاریخ رقم کرنے جارہی ہیں۔ مانابی اس خطے کی جانی پہچانی شخصیت ہیں کیونکہ ہیجڑوں کی برادری میں ایسے افراد انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں جنہوں نے اپنی محرومیوں کو اپنی راہ میں حائل رکاوٹ نہ بننے دیا اور آگے بڑھ کے کامیابیوں کو خود حاصل کیا۔



















































